Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
428 - 476
تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا ’’مجھے ہر وقت یہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں مجھ سے کوئی ایسا کام سرزد نہ ہو جائے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے اور وہ فرما دے کہ ’’تم جو چاہے کرو مگر میری رحمت تمہارے شامل حال نہ ہو گی۔ بس اسی وجہ سے میں اپنی جان پگھلا رہا ہوں۔ (1)		     (کیمیاء سعادت، رکن چہارم: منجیات، اصل سیم در خوف ورجا، ۲/۸۲۵-۸۳۲)
ایمان پہ موت بہتر او نفس

 تیری ناپاک زندگی سے
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا جَزَآءًۢ بِمَا کَسَبَا نَکٰلًا مِّنَ اللہِ ؕ وَاللہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۳۸﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور جو مرد یا عورت چور ہو تو ان کا ہاتھ کاٹو ان کے کیے کا بدلہ اللہ کی طرف سے سزااور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو مرد یا عورت چور ہو تواللہ کی طرف سے سزا کے طور پران کے عمل کے بدلے میں ان کے ہاتھ کاٹ دو اوراللہ غالب حکمت والا ہے۔
{ فَاقْطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا:تو ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔} اس آیت میں چور کی سزا بیان کی گئی ہے کہ شرعی اعتبار سے جب چوری ثابت ہوجائے تو چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ 
چوری کرنے کا شرعی حکم اور ا س کی وعیدیں :
	چوری گناہِ کبیرہ ہے اور چور کے لئے شریعت میں سخت وعیدیں ہیں ، چناچہ
	 حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : ’’چور چوری کرتے وقت مؤمن نہیں رہتا۔
(مسلم، کتاب الایمان، باب بیان نقصان الایمان بالمعاصی۔۔۔ الخ، ص۴۸، الحدیث: ۱۰۰(۵۷))
	 انہی سے روایت ہے، حضورِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :’’اگر اس نے ایسا کیا (یعنی چوری 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…ایمان کی حفاظت کا  جذبہ پانے کے لئے امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کی تصنیف " کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب" کا مطالعہ کرنا بہت مفید ہے۔