Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
427 - 476
اس کی نسبت بہت ہی آسان چیز کا مطالبہ کیا گیا تھا (یعنی ایمان کا)۔ 
(بخاری، کتاب الرقاق، باب من نوقش الحساب عذّب، ۴/۲۵۷، الحدیث: ۶۵۳۸)
	حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص سے فرمائے گا جسے جہنم میں سب سے کم عذاب ہو گا کہ اگر تیرے پاس زمین کی ساری چیزیں ہوں تو کیا تو انہیں اپنے بدلے میں دے دیتا۔ وہ جواب دے گا :جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’میں نے اس سے بھی آسان چیز تجھ سے چاہی تھی جب کہ تو آدم کی پشت میں تھا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا تو تو نے انکار کیا اور میرے ساتھ شرک کرتا رہا۔ 		   (بخاری، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنّۃ والنار، ۴/۲۶۱، الحدیث: ۶۵۵۷)
ایمان کی حفاظت کی فکر کرنا بہت ضروری ہے:
	اس آیت سے معلوم ہو اکہ ایمان ہوگا تو ہی قیامت کے دن اعمال کا اجر ملے گا، تبھی شفاعت کا فائدہ ہوگا، تبھی رحمت ِ الٰہی متوجہ ہوگی اور تبھی جہنم سے چھٹکارا ملے گا، اس لئے ایمان کی حفاظت کی فکر کرنا نہایت ضروری ہے۔ ہمارے بزرگانِ دین نیک اعمال کی کثرت کے باوجود ہمیشہ برے خاتمے سے ڈرتے رہتے تھے ،چنانچہ :
	جب حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ بے حد بے قرار اور مُضْطَرب ہوئے اور زار وقطار رونے لگے۔ لوگوں نے عرض کی :حضور! ایسی گریہ و زاری نہ کریں ، اللہ تعالیٰ کی بخشش اور مغفرت آپ کے گناہوں سے کہیں زیادہ ہے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے جواب دیا:مجھے اس بات کا یقین نہیں کہ میرا خاتمہ بالخیر ہوگا، اگر یہ پتا چل جائے کہ میرا خاتمہ ایمان پر ہو گا تو مجھے پہاڑوں کے برابر گناہوں کی بھی پرواہ نہ ہو گی۔
	 حضرت امام حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے پوچھا گیا: آپ کا کیا حال ہے؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا ’’جس شخص کی کشتی دریا کے درمیان جا کر ٹوٹ جائے ،اس کے تختے بکھر جائیں اور ہر شخص ہچکولے کھاتے تختوں پر نظر آئے تو اس کاکیا حال ہو گا؟ عرض کی گئی: بے حد پریشان کُن۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا ’’میرا بھی یہی حال ہے۔
	ایک بار آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایسے دل گرفتہ ہوئے کہ کئی سال تک ہنسی نہ آئی۔ لوگ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایسے دیکھتے جیسے کوئی قید ِتنہائی میں ہے اور اسے سزائے موت سنائی جانے والی ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اس غم و حزن کاسبب دریافت کیاگیا کہ آپ اتنی عبادت و ریاضت اور مجاہدات کے باوجود فکرمند کیوں رہتے ہیں ؟ آپ رَضِیَ اللہُ