Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
426 - 476
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوْ اَنَّ لَہُمۡ مَّا فِی الۡاَرْضِ جَمِیۡعًا وَّ مِثْلَہٗ مَعَہٗ لِیَفْتَدُوۡا بِہٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنْہُمْ ۚ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۳۶﴾یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّخْرُجُوۡا مِنَ النَّارِ وَمَا ہُمۡ بِخٰرِجِیۡنَ مِنْہَا ۫ وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿۳۷﴾

ترجمۂکنزالایمان: بیشک وہ جو کافر ہوئے جو کچھ زمین میں سب اور اس کی برابر اور اگر ان کی ملک ہو کہ اسے دے کر قیامت کے عذاب سے اپنی جان چھڑائیں تو ان سے نہ لیا جائے گا اور ان کے لئے دکھ کا عذاب ہے۔ دوزخ سے نکلنا چاہیں گے اور وہ اس سے نہ نکلیں گے اور ان کو دوامی سزا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اگر کافر لوگ جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اور اس کے برابر اتنا ہی اور اس کے ساتھ (ملاکر) قیامت کے دن کے عذاب سے چھٹکارے کے لئے دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ وہ دوزخ سے نکلنا چاہیں گے اور وہ اس سے نکل نہ سکیں گے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب ہے۔ 
{ لِیَفْتَدُوۡا بِہٖ: تاکہ فدیہ دے کر جان چھڑائیں۔} یعنی اگر کافر دنیا کا مالک ہو اور اس کے ساتھ اس کے برابر دوسری دنیا کا مالک ہو اور یہ سب کچھ اپنی جان کو قیامت کے دن کے عذاب سے چھڑانے کے لئے فدیہ کر دے تو ا س کا یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور قیامت کے دن کافروں کو عذاب ضرور ہو گا، اس دن ان کے پاس عذاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہ ہو گی۔ 					  (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۳۶، ۱/۴۹۱)
	حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن جب کافر کو پیش کیا جائے گا تو ا س سے کہا جائے گا کہ اگر تیرے پاس اتنا سونا ہو کہ اس سے زمین بھر جائے تو کیا تو اسے اپنے بدلے میں دینے کوتیار ہو جاتا؟ وہ اِثبات میں جواب دے گا تو اس سے کہا جائے گا: تم سے