Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
408 - 476
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکامیلاد مبارک منانے اور اس کا ذکر کرنے کی واضح طور پر دلیل ملتی ہے کہ جب انبیاءِ بنی اسرائیل  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تشریف آوری نعمت ہے اور اسے یاد کرنے کا حکم ہے تو حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری تو اس سے بڑھ کر نعمت ہے کہ اسے تو اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا:
لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤۡمِنِیۡنَ اِذْ بَعَثَ فِیۡہِمْ رَسُوۡلًا                    (آل عمران :۱۶۴)

ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا جب ان میں عظیم رسول مبعوث فرمایا۔ 
	لہٰذا اسے یاد کرنے کا حکم بدرجہ اولیٰ ہوگا۔
اِقتِدار ملنے پر اللہ  تعالیٰ کا شکر اد اکرنے کا بہترین طریقہ:
	اس آیت میں بیان کی گئی دوسری نعمت سے معلوم ہوا کہ حکومت و سلطنت اور اقتدار بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور اس کا بھی شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کے شکر کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ حکومت و سلطنت اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چلائی جائے، غریبوں کی مدد کی جائے، لوگوں کے حقوق ادا کئے جائیں ، ظلم کا خاتمہ کیا جائے اور ملک کے باشندوں کو امن وسکون کی زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔
حکمرانوں کے لئے نصیحت آموز4 اَحادیث:
	یہاں حکمرانی کرنے والوں کے لئے نصیحت آموز 4احادیث ملاحظہ ہوں۔
(1)…حضرت معقل بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کسی رعایا کا حکمران بنایا ہو اور وہ خیر خواہی کے ساتھ ان کی نگہبانی کا فریضہ ادا نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو تک نہ پاسکے گا۔ 	  (بخاری، کتاب الاحکام، باب من استرعی رعیۃ فلم ینصح، ۴/۴۵۶، الحدیث: ۷۱۵۰)
(2)…حضرت معقل بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی مروی ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ مسلمانوں کو جس والی کی رعایا بنایا جائے، پھر وہ والی ایسی حالت میں مرے کہ اس نے مسلمانوں کے حقوق غصب کئے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام فرما دیتا ہے۔
(بخاری، کتاب الاحکام، باب من استرعی رعیۃ فلم ینصح، ۴/۴۵۶، الحدیث: ۷۱۵۱)
(3)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں ، میں نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو یہ دعا فرماتے ہوئے سنا ’’اے اللہ ! عَزَّوَجَلَّ،میری امت کا جو شخص بھی کسی پر والی اور حاکم ہو اور وہ ان پر سختی کرے تو تو بھی اس