Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
407 - 476
وَ اِذْ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْکُرُوۡا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیۡکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیۡکُمْ اَنۡۢبِیَآءَ وَجَعَلَکُمۡ مُّلُوۡکًا ٭ۖ وَّ اٰتٰىکُمۡ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۰﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور جب موسیٰ نے کہا اپنی قوم سے اے میری قوم اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو کہ تم میں سے پیغمبر کیے اور تمہیں بادشاہ کیا اور تمہیں وہ دیا جو آج سارے جہان میں کسی کو نہ دیا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب اس نے تم میں سے انبیاء پیدا فرمائے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ عطا فرمایا جو سارے جہان میں کسی کو نہ دیا۔
{ وَ اِذْ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوْمِہٖ: اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیَٰ کا شکر اداکرنے کی تلقین فرمائی اور اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں کا ذکر فرمایا اور بطورِ خاص تین نعمتیں یہاں بیان فرمائیں :
(1)…بنی اسرائیل میں انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تشریف لائے۔
(2)…بنی اسرائیل کو حکومت و سلطنت سے نوازا گیا۔ بنی اسرائیل آزاد ہوئے اور فرعونیوں کے ہاتھوں میں قید ہونے کے بعد اُن کی غلامی سے نجات پائی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مُلُوک یعنی بادشاہ سے مراد ہے خادموں اور سواریوں کا مالک ہونا۔ حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں جو کوئی خادم اور عورت اور سواری رکھتا وہ مَلِک کہلایا جاتا ہے۔ 	  (در منثور، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۲۰،۳/۴۶)
(3)…بنی اسرائیل کو وہ نعمتیں ملیں جو کسی دوسری قوم کو نہ ملیں جیسے من و سلویٰ اترنا، دریا کا پھٹ جانا، پانی سے چشموں کا جاری ہوجانا وغیرہا۔
میلاد منانے کا ثبوت:
	اس آیت میں بیان کی گئی پہلی نعمت سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کی تشریف آوری نعمت ہے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو اس کے ذکر کرنے کا حکم دیا کہ وہ بَرَکات و ثمرات کا سبب ہے۔ اس سے  تاجدارِ رسالت صَلَّی