پر سختی کر اور اگر وہ ان پر نرمی کرے تو تو بھی اس پر نرمی کر۔
(مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضیلۃ الامام العادل وعقوبۃ الجائر۔۔۔ الخ، ص۱۰۱۶، الحدیث: ۱۹(۱۸۲۸))
(4)…حضرت ابومریم ازدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جسے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے کسی کام کا والی بنائے اور وہ ان کی حاجت مندی، بے کسی اور غریبی میں ان سے کنارہ کشی کرے تواللہ تعالیٰ اس کی حاجت مندی، بے کسی اور غریبی میں اسے چھوڑ دے گا۔
(ابو داؤد، کتاب الخراج والفیء والامارۃ، باب فیما یلزم الامام من امر الرعیّۃ۔۔۔ الخ، ۳/۱۸۸، الحدیث: ۲۹۴۸)
اقتدار کے بوجھ سے اَشکْبار:
حضرت عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ محترمہ فرماتی ہیں ’’جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مرتبۂ خلافت پر فائز ہوئے تو گھر آ کر مصلے پر بیٹھ کر رونے لگے اور اتنا روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی ۔ یہ دیکھ کر میں نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا ’’میری گردن پر تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی امت کابوجھ ڈال دیاگیا ہے اور جب میں نے بھوکے فقیروں ، مریضوں ، مظلوم قیدیوں ، مسافروں ، بوڑھوں ، بچوں اور عیالداروں ، الغرض پوری سلطنت کے مصیبت زدوں کی خبر گیری کے بارے میں غور کیا اور مجھے معلوم ہے کہ میرا ربعَزَّوَجَلَّقیامت کے دن ان کے بارے مجھ سے باز پُرس فرمائے گا تو مجھے اس بات سے ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھ سے ان کے بارے میں جواب نہ بن پڑے! (بس اس بھاری ذمہ داری اور اس کے بارے میں باز پُرس کی فکر کی وجہ سے ) میں رو رہا ہوں۔ (تاریخ الخلفائ، عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ، ص۱۸۹)
یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الۡاَرْضَ الۡمُقَدَّسَۃَ الَّتِیۡ کَتَبَ اللہُ لَکُمْ وَلَا تَرْتَدُّوۡا عَلٰۤی اَدْبَارِکُمْ فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۲۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے قوم اس پاک زمین میں داخل ہو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھی ہے اور پیچھے نہ پلٹو کہ نقصان پر پلٹو گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (موسیٰ نے فرمایا:) اے میری قوم !اس پاک سرزمین میں داخل ہو جاؤجو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اوراپنے پیٹھ پیچھے نہ پھروکہ تم نقصان اٹھاتے ہوئے پلٹوگے۔