میں لگا دیتا ہے تواللہ تعالیٰ اسے کفر و شرک اور مَعاصی کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور اعمالِ صالحہ کے نور میں داخل فرما دیتا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ ’’بہ‘‘کی ضمیر سے سرکارِ دوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ہی مراد ہیں۔ اس اعتبار سے معنیٰ بنے گا کہ اللہ تعالیٰ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے ذریعے ہدایت عطا فرماتا ہے۔ مَعنَوِی اعتبار سے یہ بات قطعاً درست ہے۔
لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللہَ ہُوَ الْمَسِیۡحُ ابْنُ مَرْیَمَ ؕ قُلْ فَمَنۡ یَّمْلِکُ مِنَ اللہِ شَیْـًٔا اِنْ اَرَادَ اَنۡ یُّہۡلِکَ الْمَسِیۡحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہٗ وَمَنۡ فِی الْاَرْضِ جَمِیۡعًا ؕ وَ لِلہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ وَمَا بَیۡنَہُمَا ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ ؕ وَاللہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک کافر ہوئے وہ جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح بن مریم ہی ہے تم فرما دو پھر اللہ کا کوئی کیا کرسکتا ہے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کردے مسیح بن مریم اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو اوراللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی جو چاہے پیدا کرتا ہے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح بن مریم ہے۔ تم فرما دو: اگر اللہ مسیح بن مریم کواور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمالے تو کون ہے جو اللہ سے بچانے کی طاقت رکھتا ہے؟ اور آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کی بادشاہت اللہ ہی کے لیے ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اللہ ہر شے پر قادرہے۔
{ لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا: بیشک وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ نجران کے عیسائیوں نے یہ بات کہی ہے اور نصرانیوں کے فرقہ یعقوبیہ وملکانیہ کا یہی مذہب ہے کہ وہ حضرت