Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
404 - 476
عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اللہ بتاتے ہیں کیونکہ وہ حُلُول کے قائل ہیں اور ان کا اعتقاد ِباطل یہ ہے کہ اللہ  تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں حلول کیا ہوا ہے جیسے پھول میں خوشبو اور آگ میں گرمی نے، مَعَاذَ اللہ ثُمَّ مَعَاذَاللہ ۔ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حکمِ کفر دیا اور اس کے بعد اُن کے مذہب کا فساد بیان فرمایا۔
حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اُلُوہِیَّت کی تردید:
	اس آیت میں حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی الوہیت کی کئی طرح تردید ہے۔ 
(1)… حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو موت آسکتی ہے، اور جسے موت آ سکتی ہے وہ خدا نہیں ہو سکتا۔
(2)… آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ماں کے شکم سے پیدا ہوئے، اور جس میں یہ صفات ہوں وہ اللہ نہیں ہو سکتا ۔
(3)… اللہ تعالیٰ تمام آسمانی اور زمینی چیزوں کا مالک ہے اور ہر چیز رب عَزَّوَجَلَّ کا بندہ ہے، اگرکسی میں اللہ تعالیٰ نے حلول کیا ہوتا تووہ اللہ کا بندہ نہ ہوتا حالانکہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامخود ا س بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ اللہتعالیٰ کے بندے ہیں۔
(4)… اللہ تعالیٰ از خود خالق ہے، اگر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں اُلُوہیت ہوتی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی از خود خالق ہوتے۔
وَقَالَتِ الْیَہُوۡدُ وَالنَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللہِ وَاَحِبّٰٓؤُہٗ ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمۡ بِذُنُوۡبِکُمۡ ؕ بَلْ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ؕ یَغْفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَیُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ لِلہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ وَمَا بَیۡنَہُمَا ۫ وَ اِلَیۡہِ الْمَصِیۡرُ ﴿۱۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور یہودی اور نصرانی بولے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں تم فرما دو پھر تمہیں کیوں تمہارے گناہوں پر عذاب فرماتا ہے بلکہ تم آدمی ہو اس کی مخلوقات سے جسے چاہے بخشتا ہے اور جسے چاہے سزا دیتا ہے  اور اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان کی اور اسی کی طرف پھرنا ہے۔