وَمُظْھِرٌ لِلْاَحْکَامِ وَالْاَحْوَالِ وَالْاَخْبَارِ‘‘ یعنی اور کون سی رکاوٹ ہے اس بات سے کہ دونوں نعتیں یعنی نور اور کتابِ مبین رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے لیے ہوں بے شک حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نورِ عظیم ہیں انوارمیں ان کے کمال ظہور کی وجہ سے اور حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کتاب مبین ہیں اس حیثیت سے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ جمیع اسرار کے جامع ہیں اور احکام و احوال و اخبار کے مُظْہِر ہیں۔
(شرح شفا، القسم الاول، الباب الاول فی ثناء اللہ تعالی علیہ۔۔۔ الخ، الفصل الاول، ۱/۵۱)
بلکہ خود رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے اپنا نور ہونا بیان فرمایا، چنانچہ امام بخاری اور امام مسلم کے استاذ کے استاذ امام عبد الرزاق رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ حضرت جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کرتے ہیں ’’قَالَ سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللہِ صلَّی اللہ علیہ وسلَّم عَنْ اَوَّلِ شَیْئٍ خَلَقَہُ اللہُ تَعَالٰی؟ فَقَالَ ھُوَ نُوْرُ نَبِیِّکَ یَا جَابِرُ خَلَقَہُ اللہُ‘‘ یعنی حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ُفرماتے ہیں : میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کس شے کو پیدا فرمایا؟ ارشاد فرمایا ’’ اے جابر! وہ تیرے نبی کا نور ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا۔
(الجزء المفقود من المصنف عبد الرزاق، کتاب الایمان، باب فی تخلیق نور محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ص۶۳، الحدیث: ۱۸ )
یَّہۡدِیۡ بِہِ اللہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوٰنَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَیُخْرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ بِاِذْنِہٖ وَیَہۡدِیۡہِمْ اِلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ ﴿۱۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللہ اس سے ہدایت دیتا ہے اسے جو اللہ کی مرضی پر چلا سلامتی کے راستے اور انہیں اندھیریوں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے اپنے حکم سے اور انہیں سیدھی راہ دکھاتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ اس کے ذریعے اسے سلامتی کے راستوں کی ہدایت دیتا ہے جو اللہ کی مرضی کا تابع ہوجائے اور انہیں اپنے حکم سے تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت دیتا ہے۔
{ یَہۡدِیۡ بِہِ اللہُ: اللہ اس کے ذریعے ہدایت دیتا ہے۔} یہاں قرآن کی شان کا بیان ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن کے ذریعے اسے ہدایت عطا فرماتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع ہوجاتا ہے اور جو اپنے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی