Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
401 - 476
 امام ابو محمد حسین بن مسعود بغوی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِلکھتے ہیں ’’ یَعْنِیْ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ وَقِیْلَ اَ لْاِسْلَامُ ‘‘ یعنی نور سے مراد محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ہیں ،اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد اسلام ہے۔ 
(تفسیر بغوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۵، ۲/۱۷)
	علامہ خازن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’یَعْنِیْ مُحَمَّدًا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم اِنَّمَا سَمَّاہُ اللہُ نُوْرًا لِاَنَّہ یُھْتَدٰی بِہ کَمَا یُھْتَدٰی بِالنُّوْرِ فِیْ الظُّلَامِ ‘‘ یعنی نور سے مراد محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ہیں اللہ تعالی نے آپ کو نور اس لیے فرمایا کہ جس طرح اندھیرے میں نور کے ذریعے ہدایت حاصل ہوتی ہے اسی طرح آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے ذریعے بھی ہدایت حاصل ہوتی ہے۔ 		  (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۵، ۱/۴۷۷)
	 علامہ جلا ل الدین سیوطی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لفظ’’نُورْ‘‘ کی تفسیر لکھتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ وَھُوَ النَّبِیُّ صلَّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلَّم‘‘نور سے مراد نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ہیں۔  (جلالین، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۹۷)
	علامہ صاوی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’وَ سُمِّیَ نُوْرًا لِاَنَّہ یُنَوِّرُ الْبَصَائِرَ وَ یَھْدِیْھَا لِلرَّشَادِ وَ لِاَنَّہ اَصْلُ کُلِّ نُوْرٍ حِسِّیٍّ وَ مَعْنَوِیٍّ‘‘یعنی حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا نام اس آیت میں نور رکھا گیا اس لیے کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ بصیرتوں کو روشن کرتے ہیں اور انہیں رُشد و ہدایت فرماتے ہیں اور اس لیے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ہر نور حِسّی (وہ نور جسے دیکھا جا سکے ) اور مَعْنَوِ ی (جیسے علم وہدایت )کی اصل ہیں۔ 
(تفسیر صاوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۵، ۲/۴۸۶)
	امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’اَلنُّوْرُ وَالْکِتَابُ ھُوَ الْقُرْآنُ، وَھٰذَا ضَعِیْفٌ لِاَنَّ الْعَطْفَ یُوْجِبُ الْمُغَایَرَۃَ بَیْنَ الْمَعْطُوْفِ وَالْمَعْطُوْفِ عَلَیْہِ‘‘ یعنی یہ قول کہ نور اور کتاب دونوں سے مراد قرآن ہے یہ ضعیف ہے کیونکہ حرف عَطف مَعطوف و معطوف عَلیہ میں مُغایَرت (یعنی ایک دوسرے کاغیر ہونے ) کو مُسْتَلْزِم ہے ۔ 
(تفسیر کبیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۵، ۴/۳۲۷)
	علامہ سید محمود آلوسی بغدادی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ وَھُوَ نُوْرُ الْاَنْوَارِ وَالنَّبِیُّ الْمُخْتَارُصلَّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلَّم‘‘ یعنی اس نور سے مراد تمام نوروں کے نور، نبی مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی ذات ہے۔ 
(روح المعانی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۵، ۵/۳۶۷)
	علامہ ملا علی قاری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’وَ اَیُّ مَانِعٍ مِنْ اَنْ یُجْعَلَ النَّعْتَانِ لِلرَّسُوْلِ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فَاِنَّہ نُوْرٌعَظِیْمٌ لِکَمَالِ ظُھُوْرِہ بَیْنَ الْاَنْوَارِ وَ کِتَابٌ مُّبِیْنٌ حَیْثُ اَنَّہ جَامِعٌ لِجَمِیْعِ الْاَسْرَارِ