ترجمۂکنزُالعِرفان: اے حبیب! تم سے پوچھتے ہیں کہ اُن کے لئے کیا حلال ہوا ؟تم فرمادو کہ حلال کی گئیں تمہارے لئے پاک چیزیں اور ان شکاری جانور وں (کا شکار) جنہیں تم نے شکار پر دوڑاتے ہوئے شکار کرنا سکھا دیا ہے۔ تم انہیں وہ سکھاتے ہو جس کی اللہ نے تمہیں تعلیم دی ہے تواس میں سے کھاؤ جو وہ شکار کرکے تمہارے لئے روک دیں اور (شکاری جانور کو چھوڑتے وقت) اس پراللہ کا نام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
{ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَہُمْ:ان کے لئے کیاحلال ہوا؟} یہ آیت حضرت عدی بن حاتم اور حضرت زید بن مہلہل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے حق میں نازل ہوئی جن کا نام سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ’’زَیْدُ الْخَیرْ‘‘ رکھا تھا۔ ان دونوں صاحبوں نے عرض کی:یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ،ہم لوگ کتے اور باز کے ذریعے سے شکار کرتے ہیں تو کیا ہمارے لئے حلال ہے ؟ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی۔ (بغوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴،۲/۸)
آیت میں ’’ طَیِّبٰت ‘‘کو حلال فرمایا گیا ہے اور’’ طَیِّبٰت ‘‘ وہ چیزیں ہیں جن کی حرمت قرآن و حدیث اور اِجماع و قِیاس میں سے کسی سے ثابت نہیں ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ طَیِّبٰت وہ چیزیں ہیں جن کو سلیم الطبع لوگ پسند کرتے ہیں اور خبیث وہ چیزیں ہیں جن سے سلیم طبیعتیں نفرت کرتی ہیں۔ (بیضاوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴، ۲/۲۹۵)
اس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کی حرمت پر دلیل نہ ہونا بھی اس کی حلت کے لئے کافی ہے۔
{ الْجَوَارِحِ: شکاری جانور۔} شکاری جانوروں سے کیا ہوا شکار بھی حلال ہے خواہ وہ شکاری جانور درندوں میں سے ہوں جیسے کتے اور چیتے کے شکار یا شکاری جانور کا تعلق پرندوں سے ہو جیسے شکرے، باز، شاہین وغیرہ کے شکار ۔جب اس طرح سدھا کر ان کی تربیت کردی جائے کہ وہ جو شکار کریں اس میں سے نہ کھائیں اور جب شکاری ان کو چھوڑے تب شکار پر جائیں اور جب بلائے واپس آجائیں ایسے شکاری جانوروں کو معلَّم (یعنی سکھایا ہوا) کہتے ہیں۔
{ مِمَّاۤ اَمْسَکْنَ عَلَیۡکُمْ: جو وہ شکار کرکے تمہارے لئے روک دیں۔} یعنی تمہارے سدھائے ہوئے شکاری کتے یا جانور جب شکار کرکے لائیں اور اُس میں سے خود کچھ نہ کھائیں تو اگرچہ جانور مر گیا ہو،تب بھی حلال ہے اور اگر کتے نے کچھ کھا لیا ہو تو حرام ہے کہ یہ اس نے اپنے لئے شکار کیا، تمہارے لئے نہیں۔
آیت کا خلاصہ: آیت سے جو معلوم ہوتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص نے کتا یا شکرہ وغیرہ کوئی شکاری جانور شکار پر چھوڑا تو اس کا شکار چند شرطوں سے حلال ہے۔