Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
385 - 476
(1)… شکاری جانور مسلمان یا کتابی کا ہو اور سکھایا ہوا ہو ۔ 
(2)… اس نے شکار کو زخم لگاکر مارا ہو۔
(3)…شکاری جانور بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْ  کہہ کر چھوڑا گیا ہو۔
(4)… اگر شکاری کے پاس شکار زندہ پہنچا ہو تو اس کوبِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْ کہہ کر ذبح کرے اگر ان شرطوں میں سے کوئی شرط نہ پائی گئی تو حلال نہ ہوگا۔ مثلاً اگر شکاری جانور مُعَلَّم (یعنی سکھایا ہوا) نہ ہو یا اس نے زخم نہ کیا ہو یا شکار پر چھوڑتے وقت جان بوجھ کر بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْ نہ پڑھا ہو یا شکار زندہ پہنچا ہو اور اس کو ذبح نہ کیا ہو یا مُعَلَّم( یعنی سکھائے ہوئے جانور) کے ساتھ غیر مُعَلَّم( یعنی نہ سکھایا ہوا جانور) شکار میں شریک ہوگیا ہو یا ایسا شکاری جانور شریک ہوگیا ہو جس کو چھوڑتے وقت بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْ نہ پڑھا گیا ہو یا وہ شکاری جانور مجوسی کافر کا ہو، ان سب صورتوں میں وہ شکار حرام ہے۔
 شکار کے دوسرے طریقے کا شرعی حکم:
	 تیرسے شکار کرنے کا بھی یہی حکم ہے اگر بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْ کہہ کر تیر مارا اور اس سے شکار مجروح (یعنی زخمی) ہو کر مر گیا تو حلال ہے اور اگر نہ مرا تو دوبارہ اس کو بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْپڑھ کر ذبح کرے اگر اس پر بِسْمِ اللہْ نہ پڑھی یا تیر کا زخم اس کو نہ لگایا زندہ پانے کے بعد اس کو ذبح نہ کیا ان سب صورتوں میں حرام ہے۔ 
	نوٹ: شکار کے مسائل کی مزید تفصیل کیلئے بہار شریعت حصہ 17کا مطالعہ فرمائیں۔
اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ؕ وَطَعَامُ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ ۪ وَطَعَامُکُمْ حِلٌّ لَّہُمْ ۫ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ مُحْصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ وَلَا مُتَّخِذِیۡۤ اَخْدَانٍ ؕ وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالۡاِیۡمٰنِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ ۫ وَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیۡنَ ٪﴿۵﴾