Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
383 - 476
	پہلا یہ کہ صرف اسلام اللہ عَزَّوَجَلَّ کو پسند ہے یعنی جو اَب دین محمدی کی صورت میں ہے، باقی سب دین اب ناقابلِ قبول ہیں۔ 
	دوسرا یہ کہ اس آیت کے نزول کے بعد قیامت تک اسلام کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہو سکتا۔
	تیسرا یہ کہ اصولِ دین میں زیادتی کمی نہیں ہو سکتی۔ اجتہادی فروعی مسئلے ہمیشہ نکلتے رہیں گے۔ 
	چوتھا یہ کہ سیدُالمرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا کیونکہ دین کامل ہو چکا، سورج نکل آنے پر چراغ کی ضرورت نہیں ، لہٰذا قادیانی جھوٹے ،بے دین اور خدا عَزَّوَجَلَّکے کلام اور دین کو ناقص سمجھنے والے ہیں۔ 
	پانچواں یہ کہ اسلام کو چھوڑ کر کوئی لاکھوں نیکیاں کرے خدا عَزَّوَجَلَّکو پیارا نہیں کیونکہ اسلام جڑ ہے اور اعمال شاخیں اور پتے اور جڑ کٹ جانے کے بعد شاخوں اور پتوں کو پانی دینا بے کار ہے۔
{ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیۡ مَخْمَصَۃٍ: تو جو بھوک پیاس کی شدت میں مجبور ہو۔} اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اوپر حرام چیزوں کا بیان کردیا گیا ہے لیکن جب کھانے پینے کو کوئی حلال چیز مُیَسَّر ہی نہ آئے اور بھوک پیاس کی شدت سے جان پر بن جائے اس وقت جان بچانے کے لئے بقدرِ ضرورت کھانے پینے کی اجازت ہے اس طرح کہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو یعنی ضرورت سے زیادہ نہ کھائے اور ضرورت اسی قدر کھانے سے رفع ہوجاتی ہے جس سے خطرئہ جان جاتا رہے۔
یَسْئَلُوۡنَکَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَہُمْ ؕ قُلْ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُمۡ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیۡنَ تُعَلِّمُوۡنَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللہُ ۫ فَکُلُوۡا مِمَّاۤ اَمْسَکْنَ عَلَیۡکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَیۡہِ ۪ وَاتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ سَرِیۡعُ الْحِسَابِ ﴿۴﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اے محبوب تم سے پوچھتے ہیں کہ اُن کے لئے کیا حلال ہوا تم فرمادو کہ حلال کی گئیں تمہارے لئے پاک چیزیں اور جو شکاری جانور تم نے سدھالیے انہیں شکار پر دوڑاتے جو علم تمہیں خدا نے دیا اس میں سے انہیں سکھاتے تو کھاؤ اس میں سے جو وہ مار کر تمہارے لیے رہنے دیں اور اس پراللہ کا نام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کو حساب کرتے دیر نہیں لگتی۔