Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
382 - 476
دینی کامیابی کے دن خوشی منانا جائز ہیـ:
	اس آیت کے متعلق بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا، اے امیرالمومنین ! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ،آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے ،اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نازل ہونے کے دن عید مناتے ۔حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا ’’ کون سی آیت؟ اس یہودی نے یہی آیت ’’ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ ‘‘ پڑھی۔ آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’ میں اس دن کو جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس کے نازل ہونے کے مقام کو بھی پہچانتا ہوں ، وہ مقام عرفات کا تھا اور دن جمعہ کا۔ 
(بخاری، کتاب الایمان، باب زیادۃ الایمان ونقصانہ، ۱/۲۸، الحدیث: ۴۵، مسلم، کتاب التفسیر، ص۱۶۰۹، الحدیث: ۵(۳۰۱۷))
	آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لئے وہ دن عید ہے۔ نیز ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے بھی ایک یہودی نے ایسا ہی کہا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں ، جمعہ اور عرفہ۔ 
(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المائدۃ، ۵/۳۳، الحدیث: ۳۰۵۵)
	اس سے معلوم ہوا کہ کسی دینی کامیابی کے دن کو خوشی کا دن منانا جائز اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے ثابت ہے ورنہ حضرت عمر اور عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمصاف فرما دیتے کہ جس دن کوئی خوشی کا واقعہ ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور اس روز کو عید منانا ہم بدعت جانتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ عید میلاد منانا جائز ہے کیونکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی سب سے عظیم نعمت کی یادگار و شکر گزاری ہے۔
{ وَاَتْمَمْتُ عَلَیۡکُمْ نِعْمَتِیۡ: اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی۔} مراد یہ ہے کہ مکہ مکرمہ فتح فرما کر میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی۔ مکہ مکرمہ کی فتح اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظیم نعمت تھی۔
{ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسْلٰمَ دِیۡنًا:اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔} یعنی میں نے تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کرلیا کہ اس کے سوا کوئی اور دین قبول نہیں۔
آیت ’’ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسْلٰمَ دِیۡنًا‘‘سے معلوم ہونے والے احکام:
	اس آیت سے کئی احکام معلوم ہوئے: