باقی رکھا۔ یاد رہے کہ اولاً اسلام میں ان مہینو ں میں جنگ حرام تھی، اب ہر وقت جہاد ہوسکتا ہے، لیکن ان کا احترام بدستور باقی ہے۔ اس کی تفصیل سورۂ توبہ ، آیت نمبر 36میں آئے گی۔
{ وَلَا الْہَدْیَ وَلَا الْقَلٰٓئِدَ: اور نہ حرم کی قربانیاں اور نہ علامتی پٹے والی قربانیاں۔} عرب کے لوگ قربانیوں کے گلے میں حرم شریف کے درختوں کی چھال وغیرہ سے ہار بُن کر ڈالتے تھے تاکہ دیکھنے والے جان لیں کہ یہ حرم کو بھیجی ہوئی قربانیاں ہیں اور ان سے چھیڑ خوانی نہ کریں۔ حرم شریف کی اُن قربانیوں کے احترام کا حکم دیا گیا ہے۔
{ وَلَاۤ آٰمِّیۡنَ الْبَیۡتَ الْحَرَامَ:اور نہ ادب والے گھر کا قصد کرکے آنے والوں (کے مال و عزت) کو۔} ادب والے گھر کا قصد کرکے آنے والوں سے مراد حج و عمرہ کرنے کے لئے آنے والے ہیں۔ آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ شُریح بن ہند ایک مشہور بدبخت تھا وہ مدینہ طیبہ میں آیا اور سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ مخلوقِ خدا کو کیا دعوت دیتے ہیں ؟ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا، اپنے رب عَزَّوَجَلَّ پر ایمان لانے اور اپنی رسالت کی تصدیق کرنے اور نماز قائم رکھنے اور زکوٰۃ دینے کی دعوت دیتا ہوں۔ وہ کہنے لگا، بہت اچھی دعوت ہے، میں اپنے سرداروں سے رائے لے لوں تو میں بھی اسلام لاؤں گا اور انہیں بھی لاؤں گا۔ یہ کہہ کروہ چلا گیا۔ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے اس کے آنے سے پہلے ہی اپنے اصحاب کو خبر دے دی تھی کہ قبیلہ ربیعہ کا ایک شخص آنے والا ہے جو شیطانی زبان بولے گا۔ اس کے چلے جانے کے بعد حضورِ ۱قدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ’’ کافر کا چہرہ لے کر آیا اور غدار وبدعہد کی طرح پیٹھ پھیر کر گیا، یہ اسلام لانے والا نہیں۔ چنانچہ اس نے فریب کیا اور مدینہ شریف سے نکلتے ہوئے وہاں کے مویشی اور اموال لے گیا۔ اگلے سال وہ یمامہ کے حاجیوں کے ساتھ تجارت کا کثیر سامان اور حج کی قَلادَہ پوش یعنی مخصوص ہار والی قربانیاں لے کر حج کے ارادہ سے نکلا۔ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ اپنے اصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے ساتھ تشریف لے جا رہے تھے ،راستے میں صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے اسی شُریح کو دیکھا اور چاہا کہ مویشی اس سے واپس لے لیں لیکن نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے منع فرما دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۲، ۱/۴۵۹)
اور حکم دیا گیا کہ جو حج کے ارادے سے نکلا ہو اسے کچھ نہ کہاجائے۔
{ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ:اور جب تم احرام سے فارغ ہوجاؤ۔} احرام سے فارغ ہونے کے بعدحرم شریف سے باہر شکار کرنے کی اجازت ہے ۔ یہ حکم درحقیقت ایک اجازت ہے مگر یہ اِباحت (جائز ہونا) ایسی قطعی ہے کہ اس کا منکر کافر ہے ۔