{ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ: اور تمہیں برانگیختہ نہ کرے۔} مراد یہ ہے کہ اہلِ مکہ نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے اصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو حدیبیہ کے دن عمرہ کرنے سے روکا لیکن تم ان کے اس معاندانہ فعل کا انتقام نہ لو۔ البتہ یہ یاد رہے کہ اب کافر کومسجد ِ حرام سے روکا جائے گا کیونکہ بعد میں ممانعت کا حکم نازل ہوگیا تھا، چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّمَا الْمُشْرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ (التوبہ:۲۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: مشرک نرے ناپاک ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں۔
{ وَتَعَاوَنُوۡا: اورایک دوسرے کی مدد کرو۔} اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کا حکم دیا ہے (1) نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا۔ (2) گناہ اور زیادتی پر باہمی تعاون نہ کرنے کا۔ بِرسے مراد ہر وہ نیک کام ہے جس کے کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے اور تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ ہر اس کام سے بچا جائے جس سے شریعت نے روکا ہے۔ اِثْم سے مراد گناہ ہے اور عُدْوَانسے مراد اللہ تعالیٰ کی حدود میں حد سے بڑھنا۔ (جلالین، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۲، ص۹۴)
ایک قول یہ ہے کہ اِثْم سے مراد کفر ہے اور عُدْوَان سے مراد ظلم یا بدعت ہے۔ (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۲، ۱/۴۶۱)
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں نیکی سے مراد سنت کی پیروی کرنا ہے۔
(صاوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۲، ۲/۴۶۹)
حضرت نواس بن سمعان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’ ’میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: نیکی حسنِ اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس سے واقف ہونا تجھے ناپسند ہو۔
(ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی البرّ والاثم، ۴/۱۷۳، الحدیث: ۲۳۹۶)
نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور گناہ کے کاموں میں مدد نہ کرنے کا حکم:
یہ انتہائی جامع آیتِ مبارکہ ہے، نیکی اور تقویٰ میں ان کی تمام اَنواع واَقسام داخل ہیں اور اِثْم اور عُدْوَان میں ہر وہ چیز شامل ہے جو گناہ اور زیادتی کے زُمرے میں آتی ہو۔ علمِ دین کی اشاعت میں وقت ،مال ، درس و تدریس اور تحریر وغیرہ سے ایک دوسرے کی مدد کرنا، دینِ اسلام کی دعوت اور اس کی تعلیمات دنیا کے ہر گوشے میں پہنچانے کے لئے باہمی تعاون کرنا، اپنی اور دوسروں کی عملی حالت سدھارنے میں کوشش کرنا ،نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا، ملک و ملت