ترجمۂکنزالایمان:اے ایمان والو حلال نہ ٹھہرا لو اللہ کے نشان اور نہ ادب والے مہینے اور نہ حرم کو بھیجی ہوئی قربانیاں اور نہ جن کے گلے میں علامتیں آویزاں اور نہ ان کا مال آبرو جو عزت والے گھر کا قصد کرکے آئیں اپنے رب کا فضل اور اس کی خوشی چاہتے اور جب احرام سے نکلو تو شکار کرسکتے ہو اور تمہیں کسی قوم کی عداوت کہ انہوں نے تم کو مسجدِ حرام سے روکا تھا زیادتی کرنے پر نہ ابھارے اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اوراللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ کی نشانیاں حلال نہ ٹھہرالو اور نہ ادب والے مہینے اور نہ حرم کو بھیجی گئی قربانیاں اور (نہ حرم میں لائے جانے والے وہ جانور) جن کے گلے میں علامتی پٹے ہوں اور نہ ادب والے گھر کا قصد کرکے آنے والوں (کے مال و عزت) کوجو اپنے رب کا فضل اور اس کی رضا تلاش کرتے ہیں اور جب احرام سے باہر جاؤ تو شکار کرسکتے ہو اور تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس وجہ سے زیادتی کرنے پر نہ ابھارے کہ انہوں نے تمہیں مسجدِ حرام سے روکا تھا اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ شدید عذاب دینے والا ہے۔
{ لَا تُحِلُّوۡا شَعٰٓئِرَ اللہِ:اللہ کی نشانیاں حلال نہ ٹھہرالو۔} اس آیت میں دین کی نشانیوں کی قدر کرنے کا حکم فرمایا ہے اور معنیٰ یہ ہیں کہ جو چیزیں اللہ عَزَّوَجَلَّنے فرض کیں اور جو منع فرمائیں سب کی حرمت کا لحاظ رکھو۔ نیز جو چیزیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیاں قرار پاجائیں ان کا احترام کرنا بہت ضروری ہے لہٰذا دینی عظمت والی چیزوں کا احترام کیا جائے گا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:
وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعٰٓئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ ﴿۳۲﴾ (الحج:۳۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جواللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔
اس شَعٰٓئِرَ اللہ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّکی نشانیوں میں خا نہ کعبہ، قرآنِ پاک، مساجد، اذان، بزر گوں کے مزارات وغیرہ سب ہی داخل ہیں بلکہ جس چیز کو اللہ عَزَّوَجَلَّکے مقبول بند وں سے نسبت ہو جائے وہ بھی شَعٰٓئِرَ اللہ بن جا تی ہے جیسے حضرت ہا جرہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہاکے قدم صفا و مروہ پہاڑوں پر پڑے تو وہ پہاڑ شَعٰٓئِرَ اللہ بن گئے اور ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ نے فرما دیا:
اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللہِ (البقرہ:۱۵۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں سے ہیں۔
{وَلَا الشَّہۡرَ الْحَرَامَ: اور نہ حرمت والے مہینوں کو۔} فرمایا گیا کہ حرمت والے مہینوں کو حلال نہ ٹھہرالو۔ محترم مہینے چار ہیں ، رجب، ذیقعد، ذوالحجہ اور محرم۔ زمانۂ جاہلیت میں بھی کفا ر ان کا ادب کر تے تھے اور اسلا م نے بھی ان کا احترام