میں سجدہ بہت افضل ہے کہ سجدے کا بھی بطورِخاص تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ رات کی عبادت ، نماز اور تلاوت دن کی اِن عبادات سے افضل ہے کیونکہ جودل کی یکسوئی رات میں مُیَسَّر ہوتی ہے، دن میں نصیب نہیں ہوتی۔ ہمارے بزرگانِ دین اپنی راتیں عبادت و تلاوت میں گزارا کرتے تھے ،چنانچہ حضرت حسین بن علی کرابیسی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں نے کئی بار حضرت امام شافعیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ رات گزاری اور میں نے دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک تہائی رات تک نماز پڑھتے اور پچاس آیات سے زیادہ تلاوت نہ کرتے ، اگر کبھی زیادہ پڑھتے تو بھی 100 آیات تک پہنچتے۔ جب کسی آیتِ رحمت کی تلاوت کرتے تو بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں اپنے لئے اور تمام مومنین کے لئے رحمت ملنے کی دعا کرتے اور جب آیتِ عذاب پڑھتے تو اس سے پناہ طلب کرتے اور اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نجات کی دعا کرتے۔
(تاریخ بغداد، ذکر من اسمہ محمد واسم ابیہ ادریس، محمد بن ادریس بن العباس ابو عبد اللہ الشافعی،۲/۶۱)
حضرت فاطمہ بنت عبد الملک رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہا فرماتی ہیں ’’ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص حضرت عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے زیادہ نماز پڑھتا اور روزے رکھتا ہو لیکن میں نے لوگوں میں کوئی ایسا شخص کبھی نہیں دیکھا جو حضرت عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے زیادہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّسے ڈرتا ہو۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(رات کے وقت) جب گھر تشریف لاتے تو سجدے میں سر رکھ کر روتے اور دعا کرتے رہتے یہاں تک کہ نیند آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی آنکھوں پر غالب آجاتی اور رات میں پھر جب بیدار ہوتے تو اسی طرح کرتے۔(حلیۃ الاولیاء، عمر بن عبد العزیز، ۵/۲۹۴، رقم: ۷۱۷۴) (1)
یُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الۡاٰخِرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالْمَعْرُوۡفِ وَ یَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنۡکَرِ وَ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الْخَیۡرٰتِؕ وَ اُولٰٓئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ﴿۱۱۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں پر دوڑتے ہیں اور یہ لوگ لائق ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…عبادت کی لگن و شوق پانے اور اس میں یکسوئی حاصل کرنے کے لئے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے تحریر کردہ مدنی انعامات پر عمل کرنا اور دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلوں میں سفر کرناانتہائی مفید ہے۔