یا اسلام کی صداقت کے خلاف نہیں بلکہ قرآنِ کریم کی صداقت کی بڑی صاف اور واضح دلیل ہے کہ بحسب اِستثنائ’’ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ ‘‘ ‘‘ صدیوں سے ذلیل و خوار یہودیوں کی ایک جماعت کو دنیاوی عزت مل گئی۔ (فتاوی نوریہ، ۵/۱۹۴، ملخصاً)
لَیۡسُوۡا سَوَآءًؕ مِنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتْلُوۡنَ اٰیٰتِ اللہِ اٰنَآءَ الَّیۡلِ وَہُمْ یَسْجُدُوۡنَ﴿۱۱۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: سب ایک سے نہیں کتابیوں میں کچھ وہ ہیں کہ حق پر قائم ہیں اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ سب ایک جیسے نہیں ، اہلِ کتاب میں کچھ وہ لوگ بھی ہیں جو حق پر قائم ہیں ، وہ رات کے لمحات میں اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔
{ لَیۡسُوۡا سَوَآءً: یہ سب ایک جیسے نہیں۔} جب حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کے ساتھی ایمان لائے تو یہودی علماء نے جل کر کہا کہ محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر ہم میں سے جو ایمان لائے ہیں وہ برے لوگ ہیں ، اگر یہ برے نہ ہوتے تو اپنے باپ دادا کا دین نہ چھوڑتے۔ اس پر یہ آیت نازل فرمائی گئی۔
(تفسیر قرطبی، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ۲/۱۳۶، الجزء الرابع)
اور بتادیا گیا کہ تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی غلامی میں آنے والے ہی تو کام کے آدمی ہیں بقیہ کا حال تو انتہائی بدتر ہے۔ حضرت عطاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا قول ہے کہ یہاں جن لوگوں کی تعریف کی گئی ہے اس سے علاقہ نجران کے40 آدمی، حبشہ کے32 آدمی اور روم کے 8 آدمی مراد ہیں جو دینِ عیسوی پر تھے، پھر حضور سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ۱/۲۹۰-۲۹۱)
آیتِ مبارکہ ’’ یَّتْلُوۡنَ اٰیٰتِ اللہِ اٰنَآءَ الَّیۡلِ ‘‘ سے معلوم ہونے والے احکام:
اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ نمازِ تہجد بہت اعلیٰ عبادت ہے کہ یہاں رات کو اٹھ کر عبادت کرنے والوں کی بطورِ خاص تعریف کی گئی ہے ، اس سے نمازِ عشاء و تہجد دونوں ہی مراد ہوسکتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز کے ارکان