Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
38 - 476
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور یہ لوگ (اللہ کے) خاص بندوں میں سے ہیں۔
{ یُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الۡاٰخِرِ: یہ اللہ پر اورآخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔} گزشتہ آیت اور اِس آیت میں مجموعی طور پر ایمان والوں کے یہ اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ (1) رات کو عبادت میں قیام کرنا، (2)نماز پڑھنا، (3) رات کا ایک حصہ عبادت میں گزارنا، (4) رات کے وقت قرآن کی تلاوت کرنا، (5)اللہ تعالیٰ اور آخرت پر کامل ایمان رکھنا، (6)نیکی کا حکم دینا، (7) برائی سے منع کرنا، (8) نیکیوں میں سبقت لیجانا، (9) نیکی کو اختیار کرنا۔ ایک کامل ایمان والے کے بھی یہی اوصاف ہونے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کاملین میں داخل فرمائے۔ 
وَمَا یَفْعَلُوۡا مِنْ خَیۡرٍ فَلَنۡ یُّکْفَرُوْہُؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌۢ بِالْمُتَّقِیۡنَ﴿۱۱۵﴾
 
ترجمۂکنزالایمان:اور وہ جو بھلائی کریں ان کا حق نہ مارا جائے گا اور اللہ کو معلوم ہیں ڈر والے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ لوگ جونیک کام کرتے ہیں ہرگز اِن کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اللہ  ڈرنے والوں کو جانتا ہے۔
{ فَلَنۡ یُّکْفَرُوْہُ:ہرگز اِن کی ناقدری نہیں کی جائے گی ۔} یہودیوں نے حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کے ساتھیوں سے کہا تھا کہ تم دین اسلام قبول کرکے خسارے میں پڑے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی کہ وہ تو بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں بلند درجات کے مستحق ہوئے اور وہ تو اپنی نیکیوں کی جزا پائیں گے جبکہ یہودیوں کی گفتگو بے معنیٰ ہے۔ 
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ تُغْنِیَ عَنْہُمْ اَمْوٰلُہُمْ وَلَاۤ اَوْلٰدُہُمۡ مِّنَ اللہِ شَیۡـًٔاؕ وَاُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۱۱۶﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: وہ جو کافر ہوئے ان کے مال اور اولاد ان کو اللہ سے کچھ نہ بچائیں گے اور وہ جہنمی ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا۔