النَّاسِ وَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللہِ وَضُرِبَتْ عَلَیۡہِمُ الْمَسْکَنَۃُؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانُوۡا یَکْفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللہِ وَیَقْتُلُوۡنَ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّکَانُوۡا یَعْتَدُوۡنَ﴿۱۱۲﴾٭
ترجمۂکنزالایمان: ان پر جمادی گئی خواری جہاں ہوں امان نہ پائیں مگر اللہ کی ڈور اور آدمیوں کی ڈور سے اور غضب الٰہی کے سزاوار ہوئے اور ان پر جمادی گئی محتاجی یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے یہ اس لئے کہ نا فرماں بردار اور سرکش تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ جہاں بھی پائے جائیں ان پر ذلت مُسلَّط کردی گئی سوائے اس کے کہ انہیں اللہ کی طرف سے سہارا مل جائے یا لوگوں کی طرف سے سہارا مل جائے۔یہ اللہ کے غضب کے مستحق ہیں اور ان پر محتاجی مسلط کردی گئی۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق شہید کرتے تھے، اوراس لیے کہ وہ نافرمان اور سرکش تھے۔
{ ضُرِبَتْ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ: ان پر ذلت مسلط کردی گئی۔} اس آیت میں بیان فرمایا گیا کہ یہودیوں پر ذلت اور محتاجی لازم کر دی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس آیت میں استثناء بھی ہے’ اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ ‘‘سوائے اس کے کہ انہیں اللہ کی طرف سے سہارا مل جائے یا لوگوں کی طرف سے سہارا مل جائے۔ اِستِثناء کے آنے سے معنی یہ بن گیا کہ (یہودی) ذلت و خواری سے کسی صورت اورکسی طرح نہیں بچ سکتے مگر اللہ عَزَّوَجَلَّکی رسی کے ساتھ اور لوگوں کی رسی کے ساتھ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رسی کے ساتھ یوں کہ یہودی مسلمان ہو جائیں تو خواری سے بچ سکتے ہیں اور حقیقی عزت حاصل کر سکتے ہیں اور لوگوں کی رسی کی صورت یہ کہ لوگوں سے عہد و پیمان کریں ،اسلامی حکومت کے ذمی بن جائیں یا کافر حکومتوں سے بھیک مانگیں اور تعاون حاصل کریں تو دنیاوی عزت پا سکتے ہیں اور ایسی صورت میں ان کی سلطنت بھی بن سکتی ہے۔ فی زمانہ اگر دنیا کے کسی خطے میں کفار کے تعاون سے یہودی سلطنت وجو دمیں آئی ہے تو اس حکومت کا قائم ہونا قرآنِ کریم