Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
358 - 476
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے سوا بکثرت انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہیں جن میں سے گیارہ کے اَسماء شریفہ یہاں آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں ، اہلِ کتاب اُن سب کی نبوت کو مانتے ہیں ، توجب اس وجہ سے ان میں سے متعدد کی نبوت تسلیم کرنے میں اہلِ کتاب کو کچھ پس و پیش نہ ہوا تو امامُ الانبیاء، سیدُالمرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نبوت تسلیم کرنے میں کیا عذر ہے؟ نیز رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بھیجنے کا مقصد مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید ومعرفت کا درس دینا اور ایمان کی تکمیل اور عبادت کے طریقوں کی تعلیم ہے اورکتاب کے متفرق طور پر نازل ہونے سے یہ مقصد بڑے کامل طریقے سے حاصل ہوجاتا ہے کیونکہ تھوڑا تھوڑا بہ آسانی دل نشین ہوتا چلا جاتا ہے، اس حکمت کو نہ سمجھنا اور اعتراض کرنا کمال درجے کی حماقت ہے۔سُبْحَانَ اللہ! کیسا دل نشین اور پیارا جواب ہے۔ 
وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰہُمْ عَلَیۡکَ مِنۡ قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَیۡکَ ؕ وَکَلَّمَ اللہُ مُوۡسٰی تَکْلِیۡمًا ﴿۱۶۴﴾ۚ 
ترجمۂکنزالایمان: اور رسولوں کو جن کا ذکر آگے ہم تم سے فرما چکے اور ان کو جن کا ذکر تم سے نہ فرمایا اور اللہنے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (ہم نے بھیجے) بہت سے ایسے رسول جن کا ذکر ہم تم سے پہلے فرما چکے اور بہت سے وہ رسول جن کا ذکر تم سے نہ فرمایا اوراللہ نے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا۔
{ وَرُسُلًا: اور بہت سے رسول۔} ارشاد فرمایا گیا کہ بہت سے رسول وہ ہیں جن کا قرآن شریف میں نام لے کر ذکر ہوچکا اور بہت سے وہ ہیں جن کا اب تک ان کے ناموں کی تفصیل کے ساتھ قرآنِ پاک میں ذکر نہیں فرمایا گیا۔ ان سب رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں وہ کتنے ہیں جن پر یکبارگی کتاب اتری۔ تو جب سب نبیوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر یکبارگی کتاب نہیں اتری تو نبی ِآخر الزّمانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر یکبارگی کتاب نہ اترنا یہودیوں کیلئے کیوں باعث ِ اعتراض بنا ہوا ہے؟ 
{ وَکَلَّمَ اللہُ مُوۡسٰی تَکْلِیۡمًا: اور اللہ نے موسیٰ سے کلام فرمایا۔} یہ بھی یہودیوں کے اعتراض کے جواب کا حصہ ہے کہ