جس طرح حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے بے واسطہ کلام فرمانا دوسرے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کیلئے انکار کا ذریعہ نہیں ہوسکتا جن سے اس طرح کلام نہیں فرمایا گیا توایسے ہی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر کتاب کا یکبارگی نازل ہونا بھی دوسرے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کے انکار کا ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ (خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۶۴، ۱/۴۵۲)
آیت کے اس حصے سے دو مسئلے معلوم ہوئے :ایک یہ کہ حضرت موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام انبیاءِ بنی اسرائیل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں بہت شان والے ہیں کہ ان کا ذکر خصوصیت سے علیحدہ ہوا۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خاص عظمتیں بخشی ہیں ، ایک نبی کی خصوصیت تمام نبیوں میں ڈھونڈنا غلطی ہے جیسے ہر نبی کَلِیْمُ اللہ نہیں۔
رُسُلًا مُّبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللہِ حُجَّۃٌۢ بـَعْدَ الرُّسُلِ ؕ وَکَانَ اللہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۶۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: رسول خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے کہ رسولوں کے بعد اللہ کے یہاں لوگوں کو کوئی عذر نہ رہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (ہم نے ) رسول خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے (بھیجے) تاکہ رسولوں (کو بھیجنے) کے بعد اللہ کے یہاں لوگوں کے لئے کوئی عذر (باقی )نہ رہے اور اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔
{ رُسُلًا مُّبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ: رسول بھیجے خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے۔} رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تشریف آوری کا مقصد نیک اعمال پر ثواب کی بشارت اور برے اعمال پرعذاب سے ڈرانا ہے اور ایک حکمت یہ ہے کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تشریف آوری کے بعد لوگوں کو یہ کہنے کا موقع نہ مل سکے کہ اگر ہمارے پاس رسول آتے تو ہم ضرور ان کا حکم مانتے اوراللہ عَزَّوَجَلَّکے مطیع و فرمانبردار ہوتے۔ اس آیت سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہتعالیٰ رسولوں کی بعثت سے پہلے مخلوق پر عذاب نہیں فرماتا جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوۡلًا ﴿۱۵﴾ (بنی اسرائیل:۱۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم کسی کو عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں۔