Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
357 - 476
رَاسِخْ فِی الْعِلْمکی تعریف:
	رَاسِخْ فِی الْعِلْم وہ عالم ہے جس کا علم اس کے دل میں اتر گیا ہو جیسے مضبوط درخت وہ ہے جس کی جڑیں زمین میں جگہ پکڑ چکی ہوں ، اس سے مراد خوش عقیدہ اور با عمل علماء ہیں۔ اس سے معلو م ہوا کہ عالمِ باعمل کا ثواب دوسروں سے زیادہ ہے کیونکہ با عمل عالم خود بھی نیک ہے اور وہ دوسروں کو بھی نیک بنا دیتا ہے۔ چاہیے کہ عالم کا عمل سنتِ نَبَوِی کا نمونہ ہو اور اس کی ہر ادا تبلیغ کرے۔ اس سے اشارۃً یہ بھی معلوم ہوا کہ بے دین یا بے عمل عالم کا عذاب بھی دوسروں سے زیادہ ہے کیونکہ وہ گمراہ بھی ہے اور گمراہ کُن بھی او ر اس کی بد عملی دوسروں کو بھی بد عمل بنا دے گی۔
اِنَّاۤ اَوْحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ کَمَاۤ اَوْحَیۡنَاۤ اِلٰی نُوۡحٍ وَّالنَّبِیّٖنَ مِنۡۢ بَعْدِہٖ ۚ وَاَوْحَیۡنَاۤ اِلٰۤی اِبْرٰہِیۡمَ وَ اِسْمٰعِیۡلَ وَ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوۡبَ وَالۡاَسْبَاطِ وَعِیۡسٰی وَاَیُّوۡبَ وَیُوۡنُسَ وَہٰرُوۡنَ وَسُلَیۡمٰنَ ۚ وَاٰتَیۡنَا دَاوٗدَ زَبُوۡرًا ﴿۱۶۳﴾ۚ 
ترجمۂکنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔
{ اِنَّاۤ اَوْحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ:بیشک ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی۔} اِس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ نے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے سوال کیا تھا کہ اُن کے لئے آسمان سے یکبارگی کتاب نازل کی جائے تو وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت پر ایمان لے آئیں گے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ان پر حجت قائم کی گئی کہ