کی عبادت کرتے ہوں گے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لے آئیں گے حتّٰی کہ اس وقت ایک ہی دین ، دینِ اسلام ہو گا۔ اور یہ اس وقت ہو گا کہ جب آخری زمانے میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامآسمان سے زمین پر نزول فرمائیں گے۔ اُس وقت حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام شریعتِ محمدیہ عَلٰی صَاحِبَہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے مطابق حکم کریں گے اور دینِ محمدی کے اماموں میں سے ایک امام کی حیثیت میں ہوں گے اور عیسائیوں نے ان کے متعلق جو گمان باندھ رکھے ہیں انہیں باطل فرمائیں گے، دینِ محمدی کی اشاعت کریں گے اوراس وقت یہود و نصارٰی کو یا تو اسلام قبول کرنا ہو گا یا قتل کر ڈالے جائیں گے، جزیہ قبول کرنے کا حکم حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے نزول کرنے کے وقت تک ہے۔(بغوی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۵۹،۱/۳۹۷، خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۱/۴۴۸-۴۴۹، صاوی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۱/۴۵۶، ملتقطاً)
اس قول سے معلوم ہوا کہ ابھی حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وفات واقع نہیں ہوئی کیونکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی وفات سے پہلے سارے اہلِ کتاب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر ایمان لائیں گے۔ حالانکہ ابھی یہودی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان نہیں لائے ۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام قریبِ قیامت زمین پر تشریف لائیں گے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اس آمد پر سارے یہودی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لے آئیں گے اس طرح کہ سب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ایک کلمہ ہونے کا اقرار کر کے مسلمان ہو جائیں گے۔
{ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمْ شَہِیۡدًا:وہ ان پر گواہ ہوں گے۔} یعنی حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام قیامت کے دن یہود یوں پر تو یہ گواہی دیں گے کہ انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تکذیب کی اور آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حق میں زبانِ طعن دراز کی اور نصارٰی پر یہ گواہی دیں گے کہ اُنہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو رب ٹھہرایا اور خدا عَزَّوَجَلَّکا شریک جانا جبکہ اہلِ کتاب میں سے جو لوگ ایمان لے آئیں گے ان کے ایمان کی بھی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام شہادت دیں گے۔
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمْنَا عَلَیۡہِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَہُمْ وَ بِصَدِّہِمْ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ کَثِیۡرًا ﴿۱۶۰﴾ۙ
ترجمۂکنزالایمان: تو یہودیوں کے بڑے ظلم کے سبب ہم نے وہ بعض ستھری چیزیں کہ ان کے لئے حلال تھیں ان پر