حرام فرمادیں اور اس لئے کہ انہوں نے بہتوں کو اللہ کی راہ سے روکا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو یہودیوں کے بڑے ظلم کی وجہ سے اور ان کے بہت سے لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کی وجہ سے ہم نے ان پر وہ بعض پاکیزہ چیزیں حرام کردیں جو ان کے لئے حلال تھیں۔
{ فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا: تو یہودیوں کے بڑے ظلم کی وجہ سے۔} یہودیوں کی کرتوتیں اوپر بیان کی گئیں اور اس آیت میں ان کے جرائم کی سزا کی ایک صورت یہ بیان فرمائی گئی کہ ان کی زیادتیوں کی وجہ سے ان پر کئی حلال چیزیں بھی حرام کردی گئیں۔
وَّ اَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُہُوۡا عَنْہُ وَ اَکْلِہِمْ اَمْوٰلَ النَّاسِ بِالْبٰطِلِ ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیۡنَ مِنْہُمْ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۱۶۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اس لئے کہ وہ سود لیتے حالانکہ وہ اس سے منع کیے گئے تھے اور لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے اور ان میں جو کافر ہوئے ہم نے ان کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس لئے (حرام کیں ) کہ وہ سود لیتے حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا اور وہ باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھا جاتے تھے اور ان میں سے کافروں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
{ وَ اَخْذِہِمُ الرِّبٰوا:اور ان کے سود لینے کی وجہ سے۔} یہودیوں میں اعتقادی خرابیوں کے ساتھ عملی برائیاں بھی موجود تھیں چنانچہ سود کھانا اور رشوت لینا ان میں عام تھا۔ فیصلہ کرنے میں رشوت لیتے حتّٰی کہ رشوت کی خاطر شرعی احکام بھی بدل دیتے۔
سود اور رشوت کی مذمت:
اس آیت سے سود کی حرمت اور رشوت کی قباحت و خباثت بھی معلوم ہوئی۔ سود لینا شدید حرام ہے۔ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک سود ستر