Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
353 - 476
ترجمۂکنزالایمان:	 بلکہ اللہ  نے اسے اپنی طرف اٹھالیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔ 

ترجمۂکنزُالعِرفان:     بلکہ اللہ  نے اسے اپنی طرف اٹھالیا تھا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
{بَلۡ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیۡہِ: بلکہ اللہ  نے اسے اپنی طرف اٹھالیا تھا۔} حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صحیح سلامت آسمان پر اٹھائے جانے کے متعلق بکثرت اَحادیث وارد ہیں۔ اس کا کچھ بیان سورۂ اٰلِ عمران کی آیت نمبر 55 کے تحت تفسیر میں گزر چکا ہے۔
وَ اِنۡ مِّنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ۚ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمْ شَہِیۡدًا ﴿۱۵۹﴾ۚ 
ترجمۂکنزالایمان: کوئی کتابی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:کوئی کتابی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے گااور قیامت کے دن وہ (عیسیٰ) ان پر گواہ ہوں گے۔
{ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ: مگر وہ اس پر ایمان لائے گا۔} اس آیت کی تفسیر میں چند اقوال ہیں۔ایک قول یہ ہے کہ یہود ونصاریٰ کو اپنی موت کے وقت جب عذاب کے فرشتے نظر آتے ہیں تو وہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر ایمان لے آتے ہیں اور اس وقت کا ایمان مقبول و معتبر نہیں۔
(قرطبی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۳/۲۹۸، الجزء الخامس، جلالین، النساء، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ص۹۱، ملتقطاً)
	 لیکن یہ قول ضعیف ہے۔  دوسرا قول یہ ہے کہ آیت کے معنیٰ یہ ہیں کہ ہر کتابی اپنی موت سے پہلے اللہ تعالیٰ یا نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آئے گا لیکن موت کے وقت کا ایمان مقبول نہیں ، اور اس سے کچھ نفع نہ ہوگا۔ 
(بغوی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۵۹،۱/۳۹۷)
	تیسرا قول یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی وفات سے پہلے ہر یہودی اور عیسائی اور وہ افراد جو غیرِ خدا