Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
350 - 476
فَبِمَا نَقْضِہِمۡ مِّیۡثٰقَہُمْ وَکُفْرِہِمۡ بِاٰیٰتِ اللہِ وَقَتْلِہِمُ الۡاَنْۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ وَّقَوْلِہِمْ قُلُوۡبُنَا غُلْفٌ ؕ بَلْ طَبَعَ اللہُ عَلَیۡہَا بِکُفْرِہِمْ فَلَا یُؤْمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۵۵﴾۪ 
ترجمۂکنزالایمان: تو ان کی کیسی بدعہدیوں کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور اس لئے کہ وہ آیاتِ الٰہی کے منکر ہوئے اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے اور ان کے اس کہنے پر کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں بلکہ اللہ  نے ان کے کفر کے سبب ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے تو ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: تو (ہم نے ان پر لعنت کی) ان کے عہد کوتوڑنے اور اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق شہید کرنے اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے (کہ) ہمارے دلوں پر غلاف ہیں بلکہ اللہ  نے ان کے کفر کے سبب ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے تو (ان میں سے) بہت تھوڑے ایمان لاتے ہیں۔ 
{ فَبِمَا نَقْضِہِمۡ مِّیۡثٰقَہُمْ: تو ان کے عہد توڑنے کی وجہ سے۔} یہاں سے اہلِ کتاب کے جرائم کی ایک فہرست اور اس پر غضبِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا بیان شروع ہے۔ یہودیوں کے جرائم کی فہرست طویل ہے۔ اس آیت اور اس سے اگلی آیات میں ان کے نصف درجن سے زائد جرائم بیان کئے گئے ہیں :
(1)… یہودیوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کئے ہوئے عہد کو توڑا۔ اس کی تفصیل اس سے گزشتہ آیت میں گزر چکی۔
(2)…یہودیوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیوں کا انکار کیا جو انبیاء  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جیسا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکے معجزات۔
(3)… یہودیوں نے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو شہید کیا اور یہودی خود سمجھتے تھے کہ ان کا انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو شہید کرنا ناحق ہی تھا۔ 
(4)… یہودیوں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے کہا تھا کہ ہمارے دلوں پرغلاف چڑھے ہوئے ہیں ، چونکہ