Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
351 - 476
یہ بھی ان کا جھوٹ اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی دعوت کو ٹھکرانا تھا لہٰذا یہ بھی سبب ِ عذاب ہوا۔ پانچواں اور چھٹا جرم اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔
{بَلْ طَبَعَ اللہُ عَلَیۡہَا: بلکہ اللہ  نے ان کے دلوں پر مہر لگادی۔}ارشاد فرمایا کہ یہودی کہتے ہیں ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے لہٰذا کوئی وعظ ونصیحت ان کے دلوں پر کارگر نہیں ہوسکتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفر اور بد کاریاں دل پر مہر لگ جانے کا باعث ہوجاتی ہیں۔ 
وَّبِکُفْرِہِمْ وَقَوْلِہِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُہۡتٰنًا عَظِیۡمًا ﴿۱۵۶﴾ۙ
ترجمۂکنزالایمان:	 اور اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا اور مریم پر بڑا بہتان اٹھایا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (ان پر لعنت کی)ان کے کفر اور مریم پر بڑا بہتان لگانے کی وجہ سے۔
{ وَّبِکُفْرِہِمْ: اور ان کے کفر کی وجہ سے۔} یہودیوں کا پانچواں جرم یہ تھا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ کفر کیا اور ان کا چھٹا جرم یہ تھا کہ انہوں نے حضرت مریم رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا پر تہمت لگائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ پاکدامن عورت پر تہمت لگانا سخت گناہ ہے اور خصوصاً کسی مقدس عورت پر اور مقدس نسبت رکھنے والی پر تہمت لگانا اور بھی زیادہ سنگین ہے۔ اسی لئے حضرت عائشہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا پر تہمت لگانے والوں کی مذمت زیادہ بیان کی گئی۔
وَّقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوۡلَ اللہِ ۚ وَمَا قَتَلُوۡہُ وَمَا صَلَبُوۡہُ وَلٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمْ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخْتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنْہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا﴿۱۵۷﴾ۙ 
ترجمۂکنزالایمان: اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول کو شہید کیا اور ہے یہ کہ انہوں نے