کااس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک آپ ہمیں خدا اعلانیہ دکھا نہ دیں۔ اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے تو یہ مطالبہ ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ یکبارگی کتاب نازل کروائیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی اطاعت کریں گے لیکن جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر یکبارگی تورات نازل ہوئی تو بجائے اطاعت کرنے کے اُنہوں نے خدا عَزَّوَجَلَّکے دیکھنے کا سوال کردیا اور اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ نہ کرنے کے سو بہانے ہوتے ہیں۔
{ وَاٰتَیۡنَا مُوۡسٰی سُلْطٰنًا مُّبِیۡنًا: اور ہم نے موسیٰ کو روشن غلبہ عطا فرمایا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو روشن غلبہ وتَسلُّط عطا فرمایا گیا کہ جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بنی اسرائیل کو توبہ کے لئے خود ان کے اپنے قتل کا حکم دیا تو وہ انکار نہ کرسکے اور انہوں نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی اطاعت کی۔
وَرَفَعْنَا فَوْقَہُمُ الطُّوۡرَ بِمِیۡثٰقِہِمْ وَقُلْنَا لَہُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَہُمْ لَا تَعْدُوۡا فِی السَّبْتِ وَاَخَذْنَا مِنْہُمۡ مِّیۡثٰقًا غَلِیۡظًا ﴿۱۵۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر ہم نے ان پر طور کو اونچا کیا ان سے عہد لینے کو اور ان سے فرمایا کہ دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو اور ان سے فرمایا کہ ہفتہ میں حد سے نہ بڑھو اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر ہم نے ان سے عہد لینے کے لئے ان پر کوہِ طور کوبلند کردیا اور ان سے فرمایا کہ دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو اور ان سے فرمایا کہ ہفتہ کے دن میں حد سے نہ بڑھو اور ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا۔
{ وَرَفَعْنَا فَوْقَہُمُ الطُّوۡرَ: پھرہم نے ان پر کوہِ طور کو بلند کر دیا۔} یہودیوں کے متعلق مزید تین باتوں کا بیان کیا جارہا ہے۔ پہلی یہ کہ ان سے تورات پر عمل کرنے کا عہد لینے کیلئے کوہِ طور کو ان کے سروں پر مُعَلَّق کردیا۔ دوسری بات یہ کہ بیتُ المقدس یا اَرِیْحَانامی بستی کے دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے گزرنے کا حکم دیا جس کی انہوں نے نافرمانی کی۔ تیسری بات یہ کہ انہیں ہفتے کے دن شکار کرنے سے منع فرمایا۔ لیکن انہوں نے تینوں باتوں میں خلاف ورزی کی اور اللہ عَزَّوَجَلَّسے مضبوط عہد کرکے توڑ دیا۔