{ وَلَوْ اٰمَنَ اَہۡلُ الْکِتٰبِ: اور اگر اہلِکتاب(بھی) ایمان لے آتے۔} یعنی اگر اہلِ کتاب بھی سیدُ الانبیاء ، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پرایمان لے آتے تو ان کیلئے بھی بہتر ہوتا لیکن ان میں کچھ ہی لوگ ایمان والے ہوئے ، جیسے یہودیوں میں سے حضرت عبداللہبن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کے ساتھی اور عیسائیوں میں سے حضرت نجاشی اور ان کے ساتھی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم۔ اس کے برعکس یہودونصاریٰ کی اکثریت نے اسلام قبول نہ کیا۔
لَنۡ یَّضُرُّوۡکُمْ اِلَّاۤ اَذًیؕ وَ اِنۡ یُّقٰتِلُوۡکُمْ یُوَلُّوۡکُمُ الۡاَدۡبَارَ۟ ثُمَّ لَا یُنۡصَرُوۡنَ﴿۱۱۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے مگر یہی ستانا اور اگر تم سے لڑیں تو تمہارے سامنے سے پیٹھ پھیر جائیں گے پھر ان کی مدد نہ ہوگی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ تمہیں ستانے کے علاوہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو تمہارے سامنے سے پیٹھ پھیر جائیں گے پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔
{ لَنۡ یَّضُرُّوۡکُمْ اِلَّاۤ اَذًی: یہ تمہیں ستانے کے علاوہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔} یہودیوں میں سے جو لوگ اسلام لائے تھے جیسے حضرت عبداللہ بن سلام اور اُن کے ساتھی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم، یہودیوں کے سردار ان کے دشمن ہوگئے تھے اور انہیں تکلیف پہنچانے کی فکر میں لگے رہتے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(تفسیر قرطبی، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ۲/۱۳۵، الجزء الرابع)
اور اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے والوں کو مطمئن کردیا کہ زبانی طعن و تشنیع اور دھمکیوں کے علاوہ یہ اِن مسلمانوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچاسکیں گے اور غلبہ مسلمانوں ہی کو حاصل ہوگا اور یہودیوں کا انجام ذلت و رسوائی ہوگا۔ اور اگر یہ اہلِ کتاب مسلمانوں کے مقابلے میں آئے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے اور تمہارے مقابلہ کی تاب نہ لاسکیں گے ۔ یہ غیبی خبریں ایسی ہی واقع ہوئیں۔بعد میں صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے شام ، روم وغیرہ تمام علاقوں میں فتح حاصل کی اور یوں یہ غیبی خبر پوری ہوئی۔
ضُرِبَتْ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ اَیۡنَ مَا ثُقِفُوۡۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللہِ وَحَبْلٍ مِّنَ