آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ بیدار ہو چکے تھے ،چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جو بندہ یوں کہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اسی وعدے پر اس کا انتقال ہو جائے تو وہ جنت میں داخل ہوا۔ میں نے عرض کی: خواہ ا س نے زنا یا چوری کی، ارشاد فرمایا ’’خواہ ا س نے زنا یا چوری کی۔ میں نے پھر عرض کی :اگرچہ وہ زنا یا چوری کرے! ارشاد فرمایا ’’اگرچہ وہ زنا یا چوری کرے ،میں نے پھرعرض کی: خواہ ا س نے زنا یا چوری کی، ارشاد فرمایا ’’خواہ ا س نے زنا یا چوری کی،خواہ ابو ذر کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ (بخاری، کتاب اللباس، باب الثیاب البیض، ۴/۵۷، الحدیث: ۵۸۲۷)
اور حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں کے لئے ہے جو کبیرہ گناہوں کے مُرْتَکِب ہوں۔
(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۱۱-باب منہ، ۴/۱۹۸، الحدیث: ۲۴۴۴)
ان اَحادیث سے بھی معلوم ہو ا کبیرہ گناہ کرنے والا کافر نہیں کیونکہ کافر نہ تو کبھی جنت میں جائے گا اور نہ ہی سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ اس کی شفاعت فرمائیں گے بلکہ جنت میں صرف مسلمان جائیں گے اور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی شفاعت بھی صرف مسلمانوں کو نصیب ہو گی اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوں۔
یاد رہے کہ اہلِ سنت کا اِجماع ہے کہ مومن کسی گناہ کی وجہ سے کافر نہیں ہوتا، چنانچہ شرح عقائدِ نَسْفِیَہ میں ہے ’’نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے زمانے سے لے کر آج تک امت کااس بات پر اجماع ہے کہ اہلِ قبلہ میں سے جو شخص بغیر توبہ کے مر گیا تو اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے لئے دعا و اِستغفار بھی کی جائے گی اگرچہ اس کا گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہونا معلوم ہو حالانکہ اس بات پر پہلے ہی امت کا اتفاق ہے کہ مومن کے علاوہ کسی اور کے لئے نمازِ جنازہ اور دعا ء و استغفار جائز نہیں۔ (شرح عقائد نسفیہ، مبحث الکبیرۃ، ص۱۱۰)
شرح فِقہِ اکبر میں ہے ’’ہم خارجیوں کی طرح کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے کسی مسلمان کی تکفیر نہیں کریں گے اگرچہ وہ گناہِ کبیرہ ہو البتہ اگر وہ کسی ایسے گناہ کو حلال جانے جس کی حرمت قطعی دلیل سے ثابت ہو تو وہ کافر ہے، اور ہم معتزلہ کی طرح کسی کبیرہ گناہ کرنے والے سے ایمان کاوصف ساقط نہیں کریں گے اور کبیرہ گناہ کرنے والے کو حقیقی مومن کہیں گے کیونکہ اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک ایمان دل سے تصدیق کرنے اور زبان سے اقرار کرنے کا نام ہے جبکہ عمل کا تعلق کمالِ ایمان سے ہے (شرح فقہ اکبر، الکبیرۃ لا تخرج المؤمن عن الایمان، ص۷۱ و۷۴)