کیونکہ صرف بعض رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر ایمان لانا کفر سے نہیں بچاتا بلکہ سب پر ایمان لانا ضروری اور ایک نبی کا انکار بھی تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے انکار کے برابر ہے۔
وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَلَمْ یُفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ اُولٰٓئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیۡہِمْ اُجُوۡرَہُمْ ؕ وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۵۲﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی پر ایمان میں فرق نہ کیا انہیں عنقریب اللہ ان کے ثواب دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی (پر ایمان لانے) میں فرق نہ کرے تو عنقریب اللہ انہیں ان کے اجر عطا فرمائے گا اوراللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
{ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ: اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے۔} یہاں آیت میں ایمان والوں سے اجرو ثواب کا وعدہ فرمایا گیا ہے اور اس میں کبیرہ گناہوں کا مُرْتَکِب بھی داخل ہے کیونکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان رکھتا ہے۔
کبیرہ گناہ کرنے والا کافر نہیں :
مُعتَزِلہ فرقے والے کبیرہ گناہ کرنے والوں کیلئے ہمیشہ کے عذاب ِ جہنم کا عقیدہ رکھتے ہیں ، اس آیت سے ان کے اس عقیدہ کا بطلان (یعنی غلط ہونا) ثابت ہوگیا۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنۡ طَآئِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اقْتَتَلُوۡا (حجرات: ۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں۔
اس سے بھی معلوم ہوا کہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کفر نہیں کیونکہ جنگ و جِدال گنا ہ ہے لیکن دونوں گروہوں کو مومن فرمایا گیا۔ نیز صحیح بخاری میں ہے، حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سفید کپڑے پہن کر آرام فرما رہے تھے ،پھر میں دوبارہ حاضر ہوا تو