اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ آدمی حقیقۃً کسی بات سے مشرک نہیں ہوتا جب تک غیرِ خدا کو معبود یا مُستَقِل بِالذّات وواجب الوجود نہ جانے۔ بعض نصوص میں بعض افعال پر اطلاقِ شرک تَشبیہاًیا تَغلیظاً یا بارادہ و مقارنت باعتقاد منافی توحید وامثال ذلک من التاویلات المعروفۃ بین العلماء وارد ہوا ہے، جیسے کفر نہیں مگر انکارِ ضروریاتِ دین اگرچہ ایسی ہی تاویلات سے بعض اعمال پر اطلاقِ کفر آیا ہے یہاں ہر گز علی الاطلاق شرک وکفر مصطلح علم عقائد کہ آدمی کو اسلام سے خارج کردیں اور بے توبہ مغفور نہ ہوں زنہار مراد نہیں کہ یہ عقیدۂ اجماعیۂ اہلسنّت کے خلاف ہے، ہر شرک کفر ہے اور کفر مزیلِ اسلام، اور اہلسنّت کا اجماع ہے کہ مومن کسی کبیرہ کے سبب اسلام سے خارج نہیں ہوتا ایسی جگہ نصوص کو علی اطلاقہا کفر وشرک مصطلح پر حمل کرنا اشقیائے خوارج کا مذہب مطرود ہے۔ (فتاوی رضویہ، ۲۱/۱۳۱)
خلاصہ عبارت یہ ہے کہ آدمی صرف دو چیزوں سے مشرک ہوتا ہے (1) غیرِ خدا کو معبود ماننے سے ، (2) اللہ کے علاوہ کسی کو مستقل بِالذّات ماننے سے۔ا ن دوچیزوں کے علاوہ کسی تیسری چیز سے آدمی حقیقتاً مشرک نہیں ہوتا۔ اور بعض اَحادیث وغیرہ میں جو کچھ کاموں کو بغیر کسی قید کے شرک یا کفر کہا گیا ہے ان کی تاویلات و تَوجِیہات علماء میں مشہور ہیں یعنی یا تو وہاں کفر و شرک سے تشبیہ مراد ہوتی ہے یااس کام پر شریعت نے شدت ظاہر کرنے کیلئے لفظ ِ شرک استعمال کیا ہوتاہے یا وہاں شرک سے مراد وہ صورت ہوتی ہے کہ جب اس فعل کے ساتھ کوئی ایسا ارادہ یا اعتقاد ملا ہو جو توحید کے منافی ہو۔ (جیسے غیر خدا کو سجدہ کرنا مطلقاً شرک نہیں لیکن اگر اس کے ساتھ ارادہ ٔ شرک موجود ہو تو یقینا شرک ہے۔) تو غیر شرک کو جہاں شرک کہا گیا ہو وہاں وہ حقیقی کفر و شرک مراد نہیں ہوتا جس کی وجہ سے آدمی اسلام سے خارج اور بغیر توبہ کے مرنے پر دائمی جہنمی قرار پائے کیونکہ اہلسنّت کا اجماع ہے کہ مسلمان کبیرہ گناہ کی وجہ سے اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ قرآن و حدیث کی مذکورہ بالا قِسم کی تصریحات کو ہماری بیان کردہ تفصیل کے ملحوظ رکھے بغیر حقیقی کفر و شرک قرار دینا خارجیوں کا مردود مذہب ہے۔
یَسْـَٔلُکَ اَہۡلُ الْکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمْ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَ لُوۡا مُوۡسٰۤی اَکْبَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللہَ جَہۡرَۃً فَاَخَذَتْہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلْمِہِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنۡۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْہُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا