کو دیکھ کر گھر والوں کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ حدیثِ مبارک میں مہمان کو حکم دیا گیا ہے کہ کسی مسلمان شخص کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے (مسلمان) بھائی کے پاس اتنا عرصہ ٹھہرے کہ اسے گناہ میں مبتلا کر دے، صحابۂ کرام رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی: یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، وہ اسے گناہ میں کیسے مبتلا کرے گا؟ ارشاد فرمایا: وہ اپنے بھائی کے پاس ٹھہرا ہو گا اور حال یہ ہو گا کہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہ ہوگی جس سے وہ اس کی مہمان نوازی کر سکے۔
(مسلم، کتاب اللقطۃ، باب الضیافۃ ونحوہا، ص۹۵۱، الحدیث: ۱۵(۱۷۲۶))
ظالم کے ظلم کو بیان کرنا جائز ہے:
آیت میں مظلوم کو ظلم بیان کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مظلوم، حاکم کے سامنے ظالم کی برائی بیان کر سکتا ہے، یہ غیبت میں داخل نہیں۔ اس سے ہزارہا مسائل معلوم ہو سکتے ہیں۔ حدیث کے راویوں کا فسق یا عیب وغیرہ بیان کرنا، چور یا غاصب کی شکایت کرنا، ملک کے غداروں کی حکومت کو اطلاع دینا سب جائز ہے۔ غیبت کے جواز کی جتنی بھی صورتیں ہیں وہ سب کسی نہ کسی بڑے فائدے کی وجہ سے ہیں۔
اِنۡ تُبْدُوۡا خَیۡرًا اَوْ تُخْفُوۡہُ اَوْ تَعْفُوۡا عَنۡ سُوۡٓءٍ فَاِنَّ اللہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیۡرًا ﴿۱۴۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اگر تم کوئی بھلائی علانیہ کرو یا چھپ کر یا کسی کی برائی سے درگزرو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا قدرت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر تم کوئی بھلائی اعلانیہ کرو یا چھپ کر یا کسی کی برائی سے درگزر کرو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا قدرت والا ہے۔
{ اِنۡ تُبْدُوۡا خَیۡرًا: اگر تم کوئی بھلائی اعلانیہ کرو۔} ارشاد فرمایا کہ اگر تم کوئی نیک کام اِعلانیہ کرو یا چھپ کریا کسی کی برائی سے درگزر کر و تو یہ افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سزا دینے پر ہر طرح سے قادر ہونے کے باوجود اپنے بندوں کے گناہوں سے درگزر کرتا اور انہیں معاف فرماتا ہے لہٰذا تم بھی اپنے اوپر ظلم وستم کرنے والوں کو معاف کر دواور لوگوں کی غلطیوں سے درگزر کرو۔
(تفسیر سمرقندی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۴۹، ۱/۴۰۱، روح البیان، النساء، تحت الآیۃ: ۱۴۹، ۲/۳۱۲، ملتقطاً)