معاف کرنے کے فضائل:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ظالم سے بدلہ لینا اگرچہ جائز ہے لیکن ظالم سے بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود اس کے ظلم پر صبر کرنا اور اسے معاف کر دینا بہتر اور اجر و ثواب کا باعث ہے ،اسی چیز کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوۡا بِمِثْلِ مَا عُوۡقِبْتُمۡ بِہٖ ؕ وَلَئِنۡ صَبَرْتُمْ لَہُوَخَیۡرٌ لِّلصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۲۶﴾ (نحل :۱۲۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی کو) سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔
اور ارشاد فرمایا:
وَلَمَنۡ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوۡرِ ﴿٪۴۳﴾ (شورٰی:۴۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور بیشک جس نے صبر کیااورمعاف کر دیا تو یہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے۔
اور ارشاد فرمایا:
وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾ (شورٰی:۴۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور برائی کا بدلہ اس کے برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنواراتو اس کا اجر اللہ (کے ذمہ کرم) پر ہے، بیشک وہ ظالموں کوپسند نہیں کرتا۔
اور ارشاد فرمایا:
وَلْیَعْفُوۡا وَلْیَصْفَحُوۡا ؕ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّغْفِرَ اللہُ لَکُمْ ؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۲﴾ (نور:۲۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور انہیں چاہیے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں ، کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری بخشش فرما دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک اللہ تعالیٰ درگزر فرمانے والا ہے اور درگزر کرنے کو پسند فرماتا ہے۔
(مستدرک، کتاب الحدود، اول سارق قطعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ۵/۵۴۶، الحدیث: ۸۲۱۶)