Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
340 - 476
(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: آپس میں گالی دینے والے دو آدمی جو کچھ کہیں تووہ (یعنی اس کا وَبال) ابتداء کرنے والے پر ہے جب تک کہ مظلوم حد سے نہ بڑھے۔ 	    (مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب النہی عن السباب، ص۱۳۹۶، الحدیث: ۶۸(۲۵۸۷))
	بری بات کا اعلان اللہ عَزَّوَجَلَّ کو پسند نہیں البتہ مظلوم کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کو بیان کرے، لہٰذا وہ چور یا غاصب کی نسبت کہہ سکتا ہے کہ اس نے میرا مال چرایایا غصب کیاہے۔ (جمل، النساء، تحت الآیۃ: ۱۴۸، ۲/۱۴۵)
	اس آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ ایک شخص ایک قوم کا مہمان ہوا تھا اور انہوں نے اچھی طرح اس کی میزبانی نہ کی، جب وہ وہاں سے نکلا تو اُن کی شکایت کرتا ہوانکلا ۔       (بیضاوی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۴۸، ۲/۲۷۲)
	اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے متعلق نازل ہوئی۔ ایک شخص سرورِ کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے سامنے حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شان میں زبان درازی کرتا رہا، حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خاموش رہے مگر وہ باز نہ آیا تو ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس کو جواب دیدیا، اس پر حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ اٹھ کھڑے ہوئے۔ حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کیا، یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، یہ شخص مجھے برا بھلا کہتا رہا تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے کچھ نہ فرمایا اور میں نے ایک مرتبہ جواب دیا تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ  اٹھ گئے۔ ارشاد فرمایا ’’ ایک فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا اور جب تم نے جواب دیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان آگیا۔ اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ 					 (خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۴۸، ۱/۴۴۴)
مہمان نوازی سے خوش نہ ہونے والوں کو نصیحت:
	پہلے یعنی مہمان نوازی والے شانِ نزول کو لیں تو اس سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جو میزبان کی مہمان نوازی سے خوش نہیں ہوتے اگرچہ گھر والے نے کتنی ہی تنگی سے کھانے کا اہتمام کیا ہو۔ خصوصاً رشتے داروں میں اور بِالخُصوص سسرالی رشتے داروں میں مہمان نوازی پر شکوہ شکایت عام ہے۔ ایک کھانا بنایا تو اعتراض کہ دو کیوں نہیں بنائے؟ دو بنائے تو اعتراض کہ تین کیوں نہیں بنائے؟ نمکین بنایا تو اعتراض کہ میٹھا کیوں نہیں بنایا؟ میٹھا بنایا تو اعتراض کہ فلاں میٹھا کیوں نہیں بنایا؟ الغرض بہت سے مہمان ظلم و زیادتی اور ایذاء رَسانی سے باز نہیں آتے اور ایسے رشتے داروں