پارہ نمبر…6
لَایُحِبُّ اللہُ الْجَہۡرَ بِالسُّوۡٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ ؕ وَکَانَ اللہُ سَمِیۡعًا عَلِیۡمًا ﴿۱۴۸﴾
ترجمۂکنزالایمان:اللہ پسند نہیں کرتا بری بات کا اعلان کرنا مگر مظلوم سے اور اللہ سنتا جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بری بات کا اعلان کرنا اللہ پسند نہیں کرتا مگر مظلوم سے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔
{ لَایُحِبُّ اللہُ الْجَہۡرَ بِالسُّوۡٓءِ مِنَ الْقَوْلِ:بری بات کا اعلان کرنااللہ پسند نہیں کرتا۔}ایک قول یہ ہے کہ بری بات کے اعلان سے مراد کسی کے پوشیدہ معاملات کو ظاہر کرنا ہے جیسے کسی کی غیبت کرنا یا کسی کی چغلی کھانا وغیرہ۔
(جمل، النساء، تحت الآیۃ: ۱۴۸، ۲/۱۴۴)
یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ اس بات کو پسند نہیں فرماتا کہ کوئی شخص کسی کے پوشیدہ معاملات کو ظاہر کرے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ بری بات کے اعلان سے مراد گالی دینا ہے۔ (مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۱۴۸، ص۲۶۱)
یعنی اللہ تعالیٰ اس بات کوپسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو گالی دے۔
ایک دوسرے کو گالی دینے کی مذمت:
گالی دینا گناہ اور مسلمان کی شان سے بعید ہے۔ اس کے بارے میں 3 اَحادیث درج ذیل ہیں۔
(1)…حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ اسے گالی دیتا ہے۔
(شرح السنہ، کتاب البر والصلۃ، باب الستر، ۶/۴۸۹، الحدیث: ۳۴۱۲)
(2)…حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فِسق اور اسے قتل کرنا کفرہے۔
(بخاری، کتاب الفتن، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لا ترجعوا بعدی کفّاراً۔۔۔ الخ، ۴/۴۳۴، الحدیث: ۷۰۷۶)