Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
338 - 476
سے بچا رہاہے اور کافر ہونے کے باوجود مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور اسلام کے ساتھ اِستِہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔
اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَاَصْلَحُوۡا وَاعْتَصَمُوۡا بِاللہِ وَاَخْلَصُوۡا دِیۡنَہُمْ لِلہِ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیۡنَ ؕ وَسَوْفَ یُؤْتِ اللہُ الْمُؤْمِنِیۡنَ اَجْرًا عَظِیۡمًا ﴿۱۴۶﴾ مَا یَفْعَلُ اللہُ بِعَذَابِکُمْ اِنۡ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنۡتُمْ ؕ وَکَانَ اللہُ شَاکِرًا عَلِیۡمًا ﴿۱۴۷﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: مگر وہ جنہوں نے توبہ کی اور سنورے اور اللہ  کی رسی مضبوط تھامی اور اپنا دین خالص اللہ کے لیے کرلیا تو یہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور عنقریب اللہ مسلمانوں کو بڑا ثواب دے گا۔ اور اللہ  تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم حق مانو اور ایمان لاؤ اوراللہ ہے صلہ دینے والا جاننے والا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان:  مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کرلی اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا اور اپنا دین خالص اللہ کے لئے کرلیا تو یہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور عنقریب اللہ مسلمانوں کو بڑا ثواب دے گا۔ اور اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لاؤتو اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اور اللہ قدر کرنے والا، جاننے والاہے۔ 
{ اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا:مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنے نفاق سے توبہ کر لی اور اپنے فاسد احوال کی اصلاح کر لی اور اللہ تعالیٰ کے دین کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا اور اپنا دین خالص اللہ تعالیٰ کے لئے کرلیا اور اس کی اطاعت میں صرف اسی کی رضا چاہی تو ایسے لوگ جنت کے بلند درجات میں مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور انہیں ان کا سابقہ نفاق کوئی نقصان نہ دے گا اور عنقریب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بڑا ثواب دے گا جس میں یہ نفاق سے سچی توبہ کرنے والے بھی شریک ہوں گے اور اے لوگو! اگر تم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بن جاؤ اور ا س پرایمان لاؤتو اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ شکر گزار مسلمانوں کی قدر کرنے والا اور انہیں جاننے والاہے۔     (روح البیان، النساء، تحت الآیۃ: ۱۴۶-۱۴۷، ۲/۳۰۹-۳۱۱)