وہ حق تک پہنچ سکے۔ (خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۴۳، ۱/۴۴۲، روح البیان، النساء، تحت الآیۃ: ۱۴۳، ۲/۳۰۸، ملتقطاً)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الْمُؤْمِنِیۡنَؕ اَتُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَجْعَلُوۡا لِلہِ عَلَیۡکُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۴۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو کافروں کو دوست نہ بناؤ مسلمانوں کے سوا کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کے لئے صریح حجت کرلو ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کے لئے صریح حجت قائم کرلو۔
{ اَوْلِیَآءَ: دوست۔} اس آیت میں مسلمانوں کو بتایا گیا کہ کفار کو دوست بنانا منافقین کی خصلت ہے ، لہٰذا تم اس سے بچو۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ کافروں کو دوست بنا کر منافقت کی راہ اختیار کرو اور یوں اپنے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم کرلو۔
اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ فِی الدَّرْکِ الۡاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ وَلَنۡ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیۡرًا ﴿۱۴۵﴾ۙ
ترجمۂکنزالایمان:بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔
{ اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ فِی الدَّرْکِ الۡاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ:بیشک منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہیں۔}ارشاد فرمایا کہ بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا جو انہیں عذاب سے بچا سکے اور جہنم کے سب سے نچلے طبقے سے انہیں باہرنکال سکے۔ (روح البیان، النساء، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۲/۳۰۹)
یاد رہے کہ منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں خود کو مسلمان کہہ کرکے مجاہدین کے ہاتھوں