نماز میں خشوع و خضوع پیدا کرنے کا آسان نسخہ :
کسی نے حضرت حاتم اصم رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے ان کی نماز کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: جب نماز کا وقت قریب آتا ہے تو میں کامل وضو کرتا ہوں پھر جس جگہ نماز ادا کرنے کا ارادہ ہوتا ہے وہاں آ کر اتنی دیر بیٹھ جاتا ہوں کہ میرے اَعضا اکٹھے ہو جائیں ، اس کے بعد یہ تصور باندھ کر نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہوں کہ کعبہ معظمہ میرے سامنے ہے، پل صراط میرے قدموں کے نیچے ہے، جنت میرے دائیں طرف اور جہنم بائیں طرف ہے، مَلَکُ الْموتعَلَیْہِ السَّلَام میرے پیچھے کھڑے ہیں اور میرا یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ میری آخری نماز ہے، پھر میں امید اور خوف کے درمیان قیام کرتا ہوں اور جیسے تکبیر کہنی چاہئے ویسے تکبیر کہتا ہوں اور ٹھہر ٹھہر کر قراء ت کرتا ہوں ، عاجزی کے ساتھ رکوع کرتا ہوں ، ڈرتے ہوئے سجدہ کرتا ہوں ، بائیں پنڈلی پر بیٹھ کر اپنے قدم کا پچھلا حصہ بچھا دیتا ہوں اور دایاں قدم انگوٹھے پر کھڑا کر دیتا ہوں ، پھر اخلاص کے ساتھ باقی افعال ادا کرتا ہوں اب میں نہیں جانتا کہ میری نماز قبول بھی ہوئی یا نہیں۔
(احیاء العلوم، کتاب اسرار الصلاۃ ومہماتہا، الباب الاول، فضیلۃ الخشوع، ۱/۲۰۶)
مُّذَبْذَبِیۡنَ بَیۡنَ ذٰلِکَ ٭ۖ لَاۤ اِلٰی ہٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰی ہٰۤؤُلَآءِ ؕ وَمَنۡ یُّضْلِلِ اللہُ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ سَبِیۡلًا ﴿۱۴۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیچ میں ڈگمگا رہے ہیں نہ اِدھر کے نہ اُدھر کے اور جسے اللہ گمراہ کرے تو اس کے لیے کوئی راہ نہ پائے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: درمیان میں ڈگمگا رہے ہیں ،نہ اِن کی طرف ہیں نہ اُن کی طرف اور جسے اللہ گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی راستہ نہ پاؤ گے۔
{ مُّذَبْذَبِیۡنَ بَیۡنَ ذٰلِکَ: درمیان میں ڈگمگا رہے ہیں۔} یعنی منافقین کفر اور ایمان کے درمیان ڈگمگارہے ہیں کیونکہ نہ تو یہ حقیقی طور پر مومن اور مخلص ایمان والوں کے ساتھ ہیں اور نہ واضح طور پر کافر اور صریح شرک کرنے والوں کے ساتھ ہیں اور اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، آپ ان منافقین کے راہِ راست پر آنے کی امید نہ رکھیں کیونکہ جسے ہدایت و توفیق کی لیاقت نہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے تو آپ ا س کے لئے کوئی ایسا راستہ نہ پائیں گے جس پر چل کر