Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
335 - 476
اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ یُخٰدِعُوۡنَ اللہَ وَہُوَ خٰدِعُہُمْ ۚ وَ اِذَا قَامُوۡۤا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوۡا کُسَالٰی ۙ یُرَآءُوۡنَ النَّاسَ وَلَا یَذْکُرُوۡنَ اللہَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۴۲﴾۫ۙ 
ترجمۂکنزالایمان: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں توبڑے سست ہوکر لوگوں کے سامنے ریاکاری کرتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ  کو بہت تھوڑا یاد کرتے ہیں۔
{ اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ یُخٰدِعُوۡنَ اللہَ: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں۔} یہاں منافقوں کی ایک اور بری خصلت کا بیان ہے وہ یہ کہ یہ اپنے گمان میں اللہ تعالیٰ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں ، حقیقتاً تو مسلمانوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں کیونکہ حقیقت میں تو اللہ تعالیٰ کو فریب دینا ممکن نہیں۔ ان کے اس فریب کا جواب انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ دے گا کہ انہیں غافل کرکے مارے گا، دنیا میں انہیں رسوا کرے گا اور قیامت میں انہیں عذاب میں مبتلا کرے گا۔ ان منافقوں کی علامت یہ ہے کہ جب مؤمنین کے ساتھ نماز کیلئے کھڑے ہوتے ہیں تو مرے دل سے او ر سستی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان تو ہے نہیں جس سے عبادت کا ذوق اور بندگی کا لطف انہیں حاصل ہوسکے ،محض لوگوں کو دکھانے کیلئے نماز پڑھتے ہیں۔
نماز میں سستی کرنا منافقوں کی علامت ہے:
	اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں سستی کرنا منافقوں کی علامت ہے ۔نماز نہ پڑھنایا صرف لوگوں کے سامنے پڑھنا جبکہ تنہائی میں نہ پڑھنا یالوگوں کے سامنے خشوع و خضوع سے اور تنہائی میں جلدی جلدی پڑھنایا نماز میں ادھر ادھر خیال لیجانا، دلجمعی کیلئے کوشش نہ کرنا وغیرہ سب سستی کی علامتیں ہیں۔