Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
318 - 476
 ذکر بلند کر دیا۔								       (الم نشرح:۴)
(7)…حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: انہوں نے قومِ لُوط سے عذاب دور کئے جانے میں بہت کوشش کی۔ 						   (ہود: ۷۴،۷۶۔عنکبوت:۳۲)
	اور حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے ربِّ غفّار عَزَّوَجَلَّ نے ا رشاد فرمایا: اللہ ان کافروں پر بھی عذاب نہ کرے گا جب تک اے رحمتِ عالم تو ان میں تشریف فرما ہے۔ 				         (انفال:۳۳) 
(8)… حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی: اے اللہ ! میری دعا قبول فرما۔ 	        (ابراہیم:۴۰)
 	اور حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ اور ان کے ماننے والوں سے اللہ ربُّ الْعٰلَمِیْن عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: تمہارا رب فرماتا ہے مجھ سے دعا مانگو میں قبول کروں گا۔ 				        (المؤمن:۶۰)
(فتاوی رضویہ،۳۰/۱۷۸-۱۸۲،ملخصاً)
وَلِلہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرْضِ ؕ وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ مُّحِیۡطًا ﴿۱۲۶﴾٪ 
ترجمۂکنزالایمان: اور اللہ  ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور ہر چیز پر اللہ کا قابو ہے ۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللہ  ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور اللہ ہر شے کو گھیرے ہوئے ہے۔
{ وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ مُّحِیۡطًا: اور اللہ ہر شے کو گھیرے ہوئے ہے۔} اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر شے کو محیط ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا علم اور قدرت ہر شے کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور کسی شے کے جتنے پہلو ہوسکتے ہیں وہ تمام کے تمام اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علم میں ہیں کوئی اس سے خارج نہیں۔ یہاں علمی اِفادے کے طور پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی ایک عبارت پیشِ خدمت ہے ، فرماتے ہیں ’’ علم و قدرتِ الٰہی ہر شے کو محیط ہونے کے بھی یہ معنی نہیں کہ ا س کے علم و قدرت ہر جگہ مُتَمَکِّن ہیں کہ جگہ یا طرف میں ہونا جسم و جِسمانِیَّت کی شان ہے اور وہ اور اس کے صفات ان سے مُتَعالی، بلکہ اِحاطۂ علم کے معنی یہ ہیں کہ ہر شے واجب یا ممکن یامُمتَنِع معدوم یا موجود حادث یا قدیم اسے معلوم ہے ۔احاطۂ قدرت کے معنی یہ ہیں کہ ہر ممکن پر اسے قدرت ہے۔					 (فتاوی رضویہ، ۱۴/۶۲۰)
وَیَسْتَفْتُوۡنَکَ فِی النِّسَآءِ ؕ قُلِ اللہُ یُفْتِیۡکُمْ فِیۡہِنَّ ۙ وَمَا یُتْلٰی عَلَیۡکُمْ فِی