وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حاصل ہیں۔ حضور سیدُالمرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خلیل بھی ہیں جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اپنا خلیل بنایا اسی طرح مجھے بھی اپنا خلیل بنایا ہے۔
(مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب النہی عن بناء المساجد علی القبور۔۔۔ الخ، ص۲۷۰، الحدیث: ۲۳(۵۳۲))
اور اس سے بڑھ کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حبیب بھی ہیں جیسا کہ ترمذی شریف کی حدیث میں ہے،حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ:میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حبیب ہوں اور یہ فخراً نہیں کہتا۔
(ترمذی، کتاب المناقب، باب ما جاء فی فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ۱-تابع باب، ۵/۳۵۴، الحدیث: ۳۶۳۶)
خلیل اور حبیب کا فرق:
بزرگانِ دین نے خلیل و حبیب کے فرق کو یوں بیان فرمایا ہے۔
(1)…حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے قیامت کے دن رسوائی سے بچنے کی دعا مانگی۔ (سورۃالشعرائ:۸۷)
جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ اور ان کے صدقے ان کے صحابہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو قیامت کی رسوائی سے بچانے کا مژد ہ سنایا۔ (سورۃ التحریم:۸)
(2)…حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے رب تعالیٰ سے ملاقات کی تمنا کی۔ (سورۃ الصافات :۹۹)
جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو خود بلاکر شَرف ملاقات سے سرفراز فرمایا۔
(سورۂ بنی اسرائیل:۱)
(3)…حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ہدایت کی آرزو فرمائی۔ (سورۃ الصافات:۹۹)
اور حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے خود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اور تمہیں سیدھی راہ دکھا دے۔ (سوۃالفتح:۲)
(4)… حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس فرشتے معزز مہمان بن کر آئے ۔ (سورۃ الذاریات:۲۴)
اور حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کیلئے رب تعالیٰ نے فرمایا:فرشتے ان کے لشکری وسپاہی بنے۔
(سورۃالتوبہ:۱۰، ال عمران:۱۲۵، التحریم: ۴)
(5)… حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی امت کی مغفرت کی دعا مانگی۔ (سورۂ ابراہیم:۴۱)
اور حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو خود اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ:اپنی امت کی مغفرت مانگو ۔(سورۂ محمد:۱۹)
(6)… حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بعد والوں میں اپنا ذکرِ جمیل باقی رہنے کی دعا کی۔ (الشعرائ:۸۴)
اور حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے خود ربّ کریم عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: اور ہم نے تمہارے لئے تمہارا