Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
319 - 476
الْکِتٰبِ فِیۡ یَتٰمَی النِّسَآءِ الّٰتِیۡ لَا تُؤْتُوۡنَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُوۡنَ اَنۡ تَنۡکِحُوۡہُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِیۡنَ مِنَ الْوِلْدٰنِ ۙ وَ اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلْیَتٰمٰی بِالْقِسْطِ ؕ وَمَا تَفْعَلُوۡا مِنْ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللہَ کَانَ بِہٖ عَلِیۡمًا ﴿۱۲۷﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ اللہ  تمہیں ان کا فتویٰ دیتا ہے اور وہ جو تم پر قرآن میں پڑھا جاتا ہے ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں کہ تم انہیں نہیں دیتے جو ان کا مقرر ہے اور انہیں نکاح میں بھی لانے سے منہ پھیرتے ہو اور کمزور بچوں کے بارے میں اور یہ کہ یتیموں کے حق میں انصاف پر قائم رہو اور تم جو بھلائی کرو تو اللہ کو اس کی خبر ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ مانگتے ہیں : تم فرماؤ کہ اللہ اور جو کتاب تمہارے سامنے تلاوت کی جاتی ہے وہ تمہیں ان ( عورتوں ) کے بارے میں فتویٰ دیتے ہیں (کہ ان کے حقوق ادا کرو) اور (وہ تمہیں فتوی دیتا ہے ) ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں جنہیں تم ان کا مقرر کیا ہوا (میراث کا) حصہ نہیں دیتے اور ان سے نکاح کرنے سے بے رغبتی کرتے ہو (حکم یہ دیتا ہے کہ تم یہ کام نہ کرو۔) اور کمزور بچوں کے بارے میں (فتوی دیتا ہے کہ ان کے حقوق ادا کرو) اور یتیموں کے حق میں انصاف پر قائم رہو اور تم جو نیکی کرتے ہو تو اللہ اسے جانتا ہے۔
{ وَیَسْتَفْتُوۡنَکَ فِی النِّسَآءِ: اور آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ مانگتے ہیں۔} شانِ نزول: زمانہِ جاہلِیَّت میں عرب کے لوگ عورت اور چھوٹے بچوں کو میت کے مال کا وارث قرار نہیں دیتے تھے۔ جب آیت ِمیراث نازل ہوئی تو انہوں نے عرض کیا، یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، کیا عورت اور چھوٹے بچے وارث ہوں گے؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے اُن کو اِس آیت سے جواب دیا ۔ حضرت عائشہ  رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا  نے فرمایا کہ یتیموں کے اولیاء کا دستور یہ تھا کہ اگر یتیم لڑکی صاحب ِمال و جمال ہوتی تو اس سے تھوڑے مہر پر نکاح کرلیتے اور اگر حسن و مال نہ رکھتی تو اسے چھوڑ دیتے اور اگرحسنِ صورت نہ رکھتی اور ہوتی مالدار تو اس سے نکاح نہ کرتے اور اس اندیشہ سے دوسرے کے نکاح