Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
312 - 476
 رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ لمبی زندگی کی امید دل میں باندھ لینا جہالت اور نادانی کی وجہ سے ہوتا ہے یا پھر دنیا کی محبت کی وجہ سے۔ جہالت اور نادانی تو یہ ہے کہ آدمی اپنی جوانی پر بھروسہ کر بیٹھے اور بڑھاپے سے پہلے مرنے کا خیال ہی دل سے نکال دے، اسی طرح آدمی کی ایک نادانی یہ ہے کہ تندرستی کی حالت میں ناگہانی موت کو ناممکن سمجھے ۔لہٰذا ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ ان باتوں میں غور کرے’ ’کیا لاکھوں بچے جوانی کی دہلیز پر پہنچنے سے پہلے ہی راہیِ عدم نہ ہوئے؟ کیا ہزاروں انسان چڑھتی جوانی میں موت سے ہم آغوش نہ ہوئے؟ کیا سینکڑوں نوجوان بھری جوانی میں لقمۂ اَجَل نہ بنے؟ کیا دَسْیوں نوجوان بیماریوں کا شکار نہ ہوئے؟ ان باتوں میں غورو فکر کے ساتھ ایک اور بات دل میں بٹھا لے کہ موت اس کے اختیار میں نہیں کہ جب یہ چاہے گا تو اسی وقت آ ئے گی، اس طرح جوانی یا کسی اور چیز پر بھروسہ کرنا خود ہی ایک نادانی نظر آئے گی۔ لمبی زندگی کی امید کی دوسری وجہ دنیا کی محبت ہے، انسان اپنے دل کو تَسلّی دیتا رہتا ہے کہ ابھی تو زمانہ پڑا ہے، ابھی کس نے مرنا ہے میں پہلے یہ مکان بنا لوں ، فلاں کاروبار شرع کر لوں ، اچھی گاڑی خرید لوں ، سہولیات سے اپنی زندگی بھر لوں جب بڑھاپا آئے گا تو اللہ اللہکرنے لگ جائیں گے اس طرح ہر کام سے دس کام نکالتا چلا جاتا ہے حتّٰی کے ایک دن پیغامِ اجل آ پہنچتا ہے اب پچھتانے کے علاوہ اس کے پاس کچھ نہیں بچتا۔ اس میں مبتلا شخص کو چاہئے کہ دنیا کی بے ثباتی اور اس کی حقیقت کے بارے میں معلومات حاصل کرے کیونکہ جس پر دنیا کی حقیقت آشکار ہو جائے کہ دنیا کی لذت چند روزہ ہے اور موت کے ہاتھوں اسے ایک دن ختم ہونا ہی ہے وہ اسے عزیز نہیں رکھ سکتا۔ 
(کیمیائے سعادت، رکن چہارم: منجیات، اصل دہم، اسباب طول امل، ۲/۹۹۵-۹۹۶، ملخصاً)
دِلا غافل نہ ہو یکدم یہ دنیا چھوڑ جانا ہے

باغیچے چھوڑ کر خالی زمیں اندر سمانا ہے
{ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ: اور میں ضرور انہیں حکم دوں گا۔} یہ شیطان کا قول ہے کہ اس نے کہا میں لوگوں کو حکم دوں گا کہ وہ بتوں کے نام پر جانوروں کے کان چیریں یا اس طرح کی دوسری حرکتیں کریں۔ چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا کہ اونٹنی جب پانچ مرتبہ بچہ جن دیتی تو وہ اس کو چھوڑ دیتے اور اس سے نفع اٹھانا اپنے اوپر حرام کرلیتے اور اس کا دودھ بتوں کے لئے وقف کر دیتے اور اس کو بَحِیرہ کہتے تھے۔ شیطان نے اُن کے دِل میں یہ بات ڈال دی تھی کہ ایسا کرنا عبادت ہے۔ 
 اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں خلافِ شرع تبدیلیاں کرنے کا شرعی حکم: 
	شیطان نے ایک بات یہ کہی کہ وہ لوگوں کو حکم دے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ضرور بدلیں گے۔