وَّلَاُضِلَّنَّہُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّہُمْ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الۡاَنْعٰمِ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللہِ ؕ وَمَنۡ یَّتَّخِذِ الشَّیۡطٰنَ وَلِیًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۱۹﴾ؕ
ترجمۂکنزالایمان: قسم ہے میں ضرورانھیں بہکادوں گا اور ضرور انہیں آرزوئیں دلاؤں گا اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ چوپایوں کے کان چیریں گے اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزبدل دیں گے اور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنائے وہ صریح ٹوٹے میں پڑا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میں ضرور انہیں گمراہ کروں گا اور انہیں امیدیں دلاؤں گا تو یہ ضرور جانوروں کے کان چیریں گے اور میں انہیں ضرور حکم دوں گا تویہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے اور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنائے تووہ کھلے نقصان میں جاپڑا۔
{ وَلَاُضِلَّنَّہُمْ: اور میں ضرور انہیں گمراہ کروں گا۔} یہ شیطان کا کہنا تھا کہ میں ضرور لوگوں کو طرح طرح کی چیزوں کی، کبھی لمبی عمر کی، کبھی لَذّات ِدنیا کی، کبھی باطل خواہشات اور کبھی اور قسم کی امیدیں دلاؤں گا اور وہ ان امیدوں کی دنیا میں پھرتے رہیں گے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے غافل رہیں گے۔
لمبی امید رکھنے کی مذمت:
شیطان مردود کا بڑا مقصد لوگوں کو بہکانا اور عملی اعتبار سے ایساکر دینا ہے کہ نجات و مغفرت کا کوئی راستہ باقی نہ رہے، اس کے لئے وہ مختلف طریقے اپناتا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ لمبے عرصے تک زندہ رہنے کی سوچ انسان کے دل، دماغ میں بٹھا کر موت سے غافل رکھتا ہے، حتّٰی کہ اسی آس امید پرجیتے جیتے اچانک وہ وقت آجاتا ہے کہ موت اپنے دردناک شکنجے میں کَس لیتی ہے پھر اب پچھتائے کیا ہَوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ،ناچار اپنے کئے اعمال کے انجام سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ فی زمانہ لوگوں کی اکثریت موت کو بھول کر دنیا کی لمبی امیدوں میں کھوئی ہوئی ہے۔ امام غزالی