Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
313 - 476
 یاد رہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں خلاف ِ شرع تبدیلیاں حرام ہیں۔ احادیث میں اس کی کافی تفصیل موجود ہے۔ ان میں سے4احادیث درج ذیل ہیں 
(1)…حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے اس مرد پر لعنت فرمائی جو عورت کا لباس پہنے اور اس عورت پر لعنت فرمائی جو مرد کا لباس پہنے۔
(ابو داؤد، کتاب اللباس، باب فی لباس النساء، ۴/۸۳، الحدیث: ۴۰۹۸) 
(2)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں ’ ’نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے زَنانہ مَردوں اور مردانی عورتوں پر لعنت فرمائی اور ارشاد فرمایا: ’’انہیں اپنے گھروں سے باہر نکال دو۔
(بخاری، کتاب اللباس، باب اخراج المتشبّہین بالنساء من البیوت، ۴/۷۴، الحدیث: ۵۸۸۶)
(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’عورتوں سے مُشابہت اختیار کرنے والے مرد اور مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتیں صبح شام اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے غضب میں ہوتے ہیں۔	  (شعب الایمان، السابع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴/۳۵۶، الحدیث: ۵۳۸۵) 
(4)…حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے اپنے بالوں میں دوسرے کے بال لگانے والی اور لگوانے والی اور بدن گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت فرمائی۔ 
(مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب تحریم فعل الواصلۃ والمستوصلۃ۔۔۔ الخ، ص۱۱۷۵، الحدیث: ۱۱۹(۲۱۲۴))
یَعِدُہُمْ وَیُمَنِّیۡہِمْ ؕ وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۱۲۰﴾ اُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمْ جَہَنَّمُ ۫ وَلَا یَجِدُوۡنَ عَنْہَا مَحِیۡصًا ﴿۱۲۱﴾ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ وَعْدَ اللہِ حَقًّا ؕ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِیۡلًا ﴿۱۲۲﴾

ترجمۂکنزالایمان: شیطان انہیں وعدے دیتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان انہیں وعدے نہیں دیتا مگر فریب