ترجمۂکنزالایمان: یہ شرک والے اللہ کے سوا نہیں پوجتے مگر کچھ عورتوں کو اور نہیں پوجتے مگر سرکش شیطان کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ شرک کرنے والے اللہ کے سوا عبادت نہیں کرتے مگر چند عورتوں کی اور یہ عبادت نہیں کرتے مگر سرکش شیطان کی۔
{ اِنۡ یَّدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا:یہ شرک کرنے والے اللہ کے سوا عبادت نہیں کرتے مگر چند عورتوں کی۔} مشرکین کے بارے میں فرمایا کہ یہ کچھ عورتوں کو پوجتے ہیں یعنی مُؤنَّث بتوں کو پوجتے ہیں جیسے لات، عُزّیٰ، مَنات وغیرہ یہ سب مؤنث نام ہیں۔ (بغوی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۱۷، ۱/۳۸۴)
یونہی عرب کے ہر قبیلے کا ایک بت ہوتا تھا جس کی وہ عبادت کرتے تھے اور اس کو اس قبیلہ کی اُنثیٰ یعنی عورت کہتے تھے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مشرکینِ عرب اپنے باطل معبودوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اس لئے آیت میں فرمایا کہ مشرک عورتوں کو پوجتے ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ مشرکین بتوں کو زیور وغیرہ پہنا کر عورتوں کی طرح سجاتے تھے۔ اس لئے انہیں عورتیں فرمایا گیا ہے۔ (ابو سعود، النساء، تحت الآیۃ: ۱۱۷، ۱/۵۸۵)
ان مشرکین کے متعلق فرمایا کہ یہ حقیقت میں شیطان مردود کو پوجتے ہیں کیونکہ اسی کے بہکانے سے ہی یہ بت پرستی کرتے ہیں۔
لَّعَنَہُ اللہُ ۘ وَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیۡبًا مَّفْرُوۡضًا ﴿۱۱۸﴾ۙ
ترجمۂکنزالایمان: جس پر اللہ نے لعنت کی اور بولا قسم ہے میں ضرور تیرے بندوں میں سے کچھ ٹھہرایا ہوا حصہ لوں گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس پر اللہ نے لعنت کی اور اس نے کہا: میں ضرور تیرے بندوں سے مقررہ حصہ لوں گا۔
{ لَعَنَہُ اللہُ: جس پر اللہ نے لعنت کی۔} یہاں شیطان مراد ہے ، اس پراللہ عَزَّوَجَلَّ نے لعنت کی اور اس نے کہا تھا کہ میں تیرے بندوں سے مقررہ حصہ ضرور لوں گا یعنی انہیں اپنا اطاعت گزار بناؤں گا ۔