ومُرسَلین، ملائکہ و مقربین سب کے علوم مل کر علومِ الہِٰیّہ سے وہ نسبت نہیں رکھ سکتے جو کروڑ ہا کروڑ سمندروں سے ایک ذرا سی بوند کے کروڑویں حصے کو ہے کہ وہ تمام سمندر اور یہ بوند کا کروڑواں حصہ دونوں مُتَناہی ہیں (یعنی ان کی ایک انتہا ہے)، اور متناہی کو متناہی سے نسبت ضرور ہے ، جبکہ اللہ تعالیٰ کے علوم وہ غیر متناہی در غیر متناہی در غیر متناہی ہیں (یعنی ان کی کوئی انتہا ہی نہیں )۔ اور مخلوق کے علوم اگرچہ عرش و فرش، مشرق ومغرب ،روزِ اول تا روزِآخر جملہ کائنات کو محیط ہوجائیں پھر بھی متناہی ہیں کہ عرش و فرش دو حدیں ہیں ، روزِ اول و روزِ آخر دو حدیں ہیں اور جو کچھ دو حدوں کے اندر ہو سب متناہی ہے۔
(3)…بالفعل غیر متناہی کا علمِ تفصیلی مخلوق کو مل ہی نہیں سکتا تو جملہ علومِ خَلق کو علمِ الٰہی سے اصلاً نسبت ہونی محالِ قطعی ہے نہ کہ مَعَاذَاللہتَوَہُّمِ مساوات۔
(4)… اس پر اجماع ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے دیئے سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کثیر و وافر غیبوں کا علم ہے یہ بھی ضروریاتِ دین سے ہے جو اِس کا منکر ہو کافر ہے کہ سرے سے نبوت ہی کا منکر ہے۔
(5)…اور اس پر بھی اجماع ہے کہ اس فضل جلیل میں محمدٌ رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا حصہ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامو تمام جہان سے اَتَمّ و اعظم ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے حبیبِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو اتنے غیبوں کا علم ہے جن کا شمار اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی جانتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، ۲۹/۴۵۰-۴۵۱ ملخصاً)
یاد رہے کہ یہاں ’’ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ ‘‘ میں وہ سب کچھ داخل ہے جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نہیں جانتے۔ معتبر تفاسیر میں اس کی صراحت موجود ہے۔چنانچہ درج ذیل پانچ تفاسیر میں اس کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔
(1)… تفسیر البحر المحیط، النساء، تحت الایۃ: ۱۱۳،۳/۳۶۲ (2)…تفسیر طبری، النساء، تحت الایۃ: ۱۱۳، ۴/۲۷۵، (3)…نظم الدرر ، النساء، تحت الایۃ: ۱۱۳،۲/۳۱۷،(4)… زاد المسیر فی علم التفسیر، النساء، تحت الایۃ: ۱۱۳، ص۳۲۴، (5)…روح المعانی، النساء، تحت الایۃ: ۱۱۳، ۳/۱۸۷
{ وَکَانَ فَضْلُ اللہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا:اور آپ پر اللہ کافضل بہت بڑا ہے۔}امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ نے پوری مخلوق کو جو علم عطا فرمایا اس کے بارے میں ارشاد فرمایا:
وَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیۡلًا (بنی اسرائیل:۸۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (اے لوگو!) تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
اسی طرح پوری دنیا کے بارے میں ارشاد فرمایا :